Al-Risala · October 1977 · page 38

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸

اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۝ (توبه - ۱۱۱)

اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لاپناد ہے اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑتے رہے ہیں ، پھر مارتے رہے ہیں اور مارے جاتے رہے ہیں ۔

یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے ، تورات میں ، انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ پس خوش ہو جاؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔

یہ ہجرت یا دوسرے لفظوں میں جائز مفادات کی قربانی انسان کی خدا پرستی کا امتحان بھی ہے اور اسی کے ذریعہ سے خدا کا دین بھی خدا کی زمین پر قائم ہوتا ہے۔ یہ اعلاء کلمۃ اللہ کی جد و جہد کا لازمہ ہے۔ جو لوگ اس کام میں حصہ لینے کے لیے آگے بڑھیں ، مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ دنیا میں ، یا مقام محفوظ کر لینے کے بعد آخریت کا کام کرنا چاہتے ہوں ، جو اپنے معیار زندگی کو گھٹانے پر تیار نہ ہوں ، جو اپنے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا گوارا نہ کریں ، جو دنیوی زندگی میں اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو قربان نہ کریں ، جو یہ نہ سوچیں کہ اپنی معاشی مصروفیات میں کمی کر کے دین کی خدمت کے لیے اور زیادہ وقت نکالنا چاہیے ، بلکہ اس کے برعکس جو ہمیشہ یہ سوچتے ہوں کہ کس طرح اور کوئی بڑا کام مل جائے تاکہ اپنے بڑھے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے ، مختصر یہ کہ جن کے اندر اتنا حوصلہ نہ ہو کہ وہ آج کے فائدے پر کل کے فائدے کو ترجیح دے سکیں ، ایسے لوگوں نے کبھی تاریخ میں دین کو سربلند نہیں کیا ہے اور جب تک یہ زمین و آسمان قائم ہیں آئندہ بھی ایسے لوگوں کے ہاتھوں یہ کام نہیں ہو سکتا۔ جہاد اب جہاد کو لیجیے ۔ جہاد کے معنی ہیں کسی چیز کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کرنا ۔ اتنی کوشش کرنا کہ آدمی تھک جائے ۔ ہجرت کی طرح یہ جہاد بھی کسی وقتی کارروائی کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق ساری زندگی سے ہے۔ جہاد صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ ایمان لانے کے بعد ہی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور زندگی کے آخر لمحات تک جاری رہتا ہے۔ ایک غیر اسلامی معاشرہ میں جہاد کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسی مارکس کے جدلیاتی فلسفہ میں ایک نظام کے اندر اس کے ضد کی ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست چیلنج ہے جو کسی نظام کے اندر اس کے عدو کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ جاہلی معاشرہ میں کسی کا اسلام قبول کرنا دراصل وقت کے خلاف فیصلہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ اگر صحیح شعور اور مکمل عزم کے ساتھ ہو تو بالکل لازمی نتیجہ کے طور پر معاشرہ کے ہر فرد اور اس کے تمام اداروں سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وقت کا معاشرہ ہوتا ہے جو اپنے تمام نظری اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے زندگی کے تمام شعبوں پر چھایا ہوا ہوتا ہے دوسری طرف یہ صاحب ایمان ہوتا ہے جو اس سے مختلف ایک اور ہی طرز زندگی کو اپنے گرد و پیش کی دنیا میں دیکھنا چاہتا ہے۔ ماحول کے ساتھ اس کا یہ اختلاف اس کو ایک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page