Al-Risala · October 1977 · page 39

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹

ایسی تیز گیس کی مانند بنا دیتا ہے جو کسی محدود خول کے اندر بند ہو اور ہر آن اس سے نکلنے کے لیے بے قرار ہو۔ یہ مکش کش اور جد و جہد کا عمل آدمی کے اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے اور تمدن کے مختلف گوشوں میں پھیلتا ہوا ہر اس معاملہ تک پہنچ جاتا ہے جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہو۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور دن بہ دن تیز سے تیز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کش مکش اپنے آخری نقطے پر پہنچ جاتی ہے، باول کا بند ٹوٹ جاتا ہے اور جاہلی نظام شکست کھا کر اسلام کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے۔

جہاد کی اصل حقیقت خدا کی راہ میں چلنے کے لیے اپنے آپ کو تھکانا ہے۔ قرآن میں خدا کے دین کو "نجد" " کہا گیا ہے جس کے معنی بلند مقام کے ہیں۔ اور اس دین پر عمل کرنے کو اونچائی پر چڑھنے سے تشبیہ دی گئی ہے (بید -۱۱) اس مثال سے ہم جہاد کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا میں زندگی گزارنے کی صرف دو راہیں ہیں۔ ایک نفس کی خواہش کے مطابق اور دوسری خدا کی مرضی کے مطابق۔ ایک غیر ذمہ دارانہ زندگی ہے اور دوسری ذمہ دارانہ زندگی۔ پہلی راہ بے حد آسان ہے اور دوسری راہ بے حد دشوار پہلی صورت میں اوپر سے نیچے آنا ہوتا ہے اور دوسری صورت میں نیچے سے اوپر جانا۔ گاڑی کو ڈھلوان راستے پر چھوڑ دیجیے تو وہ خود بخود لڑھکتی چلی جائے گی، اس کے لیے کسی غیر معمولی کوشش کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر اسی گاڑی کو کسی بلندی پر چڑھانا ہو تو مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ایک تھکا دینے والی مشقت کے بغیر کوئی شخص اپنی گاڑی کو نیچے سے اوپر نہیں لے جا سکتا۔ یہی عمل جب وقت اور خواہش کے خلاف اپنی زندگی کو خدا کی طرف لے جانے کے لیے کیا جائے تو اس کو ہم جہاد کہتے ہیں۔

انسان جب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرے گا، تو اس کو فوراً معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دو ایسی طاقتیں ہیں جو اس کے اس ارادہ کی راہ میں زبردست روک ہیں۔ ایک خود اس کا اپنا نفس دوسرے طاغوت۔ نفس سے مراد انسان کا یہ جذبہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے لیے لذت اور آرام کو پسند کرتا ہے۔ اس کو ہمیشہ آسانی کی تلاش رہتی ہے وہ عزت اور برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے بلکہ جدھر اس کا جی چاہتا ہے اس طرف نکل جاتا ہے۔ یہ جذبہ اس کو اکساتا ہے کہ ہر وہ کام کرے جس سے اس کی ان خواہشوں کو تسکین ملتی ہو اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے اس کی ان خواہشوں پر ضرب پڑے۔ اور طاغوت سے مراد خارج کا وہ غلط اقتدار ہے جو ماحول کی روایات، وقت کے نظریات اور عوام الناس کی خواہشوں کی صورت میں آدمی کے اوپر دباؤ ڈالتا ہے۔ یہ طاغوت افراد کی زندگی میں متکبرانہ روش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی میں غیر خدائی اقتدار کی صورت میں۔ یہ خارجی قوتیں براہ راست بھی مزاحمت کرتی ہیں اور بالواسطہ بھی۔ بالواسطہ اس طرح کہ سوسائٹی پر عملاً قابض ہونے کی وجہ سے زندگی کے تمام گوشوں میں انھیں کے نظریات کھیل جاتے ہیں۔ انسان کے لیے اس کے سوا کوئی شکل نہیں ہوتی کہ ان کو مانے اور اپنے آپ کو ان سے ملوث کرے، اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور براہ راست اس لیے کہ اس طرح کے ایک ماحول میں حق پر چلنے کا ارادہ ان قوتوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page