Al-Risala · October 1977 · page 30

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰

ہے، یہی وہ رُعب ہے وہ لانِ اونٹ لغام سے لیے موت کی بین لوٹی ہے۔ اس لیے جو لوگ اس قسم کا ارادہ لے کر اُٹھتے ہیں وہ ان کو روکنے اور ان کو کچل دینے کے لیے اپنا پورا زور صرف کرتی ہیں اور اپنے دائرہ میں ان کو زندگی کے مواقع سے محروم کرکے رکھ دیتی ہیں۔

ان حالات میں جب کوئی شخص خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کو اپنے اندر سے لے کر باہر تک خیالات سے لے کر عمل کی دنیا تک قدم قدم پر بیشمار رکاوٹوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کہیں آرام کے مقابلہ میں تکلیف گوارا کرنا ہوتا ہے، کہیں ایک لذتیر رجحان کو چھوڑنے اور ایک خشک عقیدہ کو قبول کرنے کے لیے مکش مکش کرنی پڑتی ہے۔ کہیں ملتے ہوئے ناجائز فائدوں کے ڈھیر کے بجائے ایک حقیر حاصل پر آمادہ ہونے کے لیے اپنے آپ سے زبردستی کرنی پڑتی ہے۔ کہیں عزت اور ناموری کے بجائے گم نامی اور ذلت پر قانع ہونے کے لیے مجاہدہ کرنا ہوتا ہے۔ کہیں اپنے جائز حقوق اور اپنے واقعی مفادات سے محرومی پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ غرض اس کے سامنے دو مختلف راہیں کھلی ہوتی ہیں اور اس کو پورا اختیار ہوتا ہے کہ جدھر چاہے چلا جائے ۔ ایک طرف جانے میں دنیا کی ہرچیز ملتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اور دوسری طرف جانے میں بظاہر کچھ کبھی ملتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا نفس مجبور کرتا ہے کہ آسان راستہ کی طرف جائے ۔ خارجی قوتیں اس مقصد کے لیے اپنا پورا وزن اس کے اوپر ڈال دیتی ہیں۔ مگر وہ ان ساری مزاحمتوں کے باوجود آسان اور پر لطف راستے کو چھوڑ دیتا ہے اور کھینچ کر اپنے کو مشکل راستہ کی طرف لے جاتا ہے ۔ اسی کش مکش کا نام جہاد ہے۔

جس چیز کو ہم اجتماعی انقلاب کہتے ہیں وہ بھی اسی کش مکش کا ایک قدرتی نتیجہ ہے جس کے بعد ماحول پر اسلام کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اجتماعی انقلاب برپا کرنا اسلام کا اصل مقصود ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ مقصد نہیں بلکہ ذریعہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل کا آخری انجام ہے۔ اسلام کے مطابق جینے اور مرنے کا ارادہ جو ابتدا قلب کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ جب عمل کی صورت اختیار کرتا ہے اور ذہن سے نکل کر ماحول میں پھیلنا شروع ہوتا ہے تو اسی پھیلاؤ کے ایک مخصوص دائرہ کو ہم اجتماعی انقلاب کہتے ہیں۔ انقلاب کو مصنوعی درخت کی طرح لگایا نہیں جاسکتا اور نہ اس کو بوریوں میں بھر کر کہیں باہر سے لایا جاتا ہے بلکہ وہ ایک عمل کے طبعی نتیجہ کے طور پر خود اپنی زمین سے ابھرتا ہے۔ جس طرح انڈے کے اندر ایک زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک روز اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور عقتا جاگتا بچہ اس کے باہر آ جائے ۔ ٹھیک اسی طرح مخالف ماحول کے اندر ایک اسلامی گروہ کی موجودگی اس کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ اگر یہ گروہ اپنے ایمان میں مخلص ہے اور عقیدہ کو عمل کی شکل دینے کا سچا عزم رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آن باطل کی دیوار کو متزلزل کر رہا ہے۔ ایسا ایک گروہ لازمی طور پر دیوار کو توڑ دے گا۔ وہ اس کے اندر نہیں ٹھہر سکتا۔

جہاد ہر اس رکاوٹ سے لڑنے اور اس سے کش کش کرنے کا نام ہے جو دین پر عمل کرنے کے سلسلے میں پیش آئے اور چونکہ یہ رکاوٹ انسان کے اندر سے بھی ہوتی ہے اور باہر سے بھی ، اس لیے جہاد میں آدمی بھی خود

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page