Al-Risala · October 1977 · page 41

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱

اپنے نفس کے بالمقابل ہوتا ہے اور کبھی خارجی دنیا سے کش مکش کرتا ہے۔ اس کو بھی خود اپنی خواہشوں سے لڑنا ہوتا ہے، کبھی زبان سے دوسروں کے طرزِ اصل پر گرفت کرنی ہوتی ہے اور کبھی ہاتھ کی قوت سے راہِ حق کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔

جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تُجَاهِدُونَ اپنی خواہشوں سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں اعداء کم (مفردات امام راغب) سے جہاد کرتے ہو۔

مگر جہاد اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے صرف کسی ظاہری عمل کا نام نہیں ہے بلکہ اس مخصوص کیفیت کا نام ہے جو کسی عمل کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے ۔ ظاہری شکلیں اسی کیفیت جہاد کو پیدا کرنے کے لیے ہیں نہ کہ خود ان ظاہری شکلوں کا نام جہاد ہے۔ ایک شخص رات دن کی کوشش سے اسلام پر ایک اعلیٰ درجے کی کتاب لکھتا ہے۔ بظاہر یہ جہاد کی ایک شکل ہے۔ لیکن اس کا مقصد اگر یہ ہے کہ اس کتاب سے اس کی شہرت ہوگی یا اس کو مالی فوائد حاصل ہوں گے تو اس کے اس عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ جہاد کہے جانے کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے برعکس کوئی نیک کام کرتے ہوئے جب اس کے دل میں ایک غلط خیال گزرتا ہے اور اس تصور سے وہ کانپ اٹھتا ہے کہ اس طرح اس کا سارا کیا کرایا مٹی ہو جائے گا، اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں اور بے اختیار وہ کہہ اٹھتا ہے کہ:۔ خدایا! مجھے شیطان کے حوالے نہ کر ورنہ میں تباہ ہو جاؤں گا۔ تو یہ جہاد ہے۔

یہ بات صرف جہاد ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ دوسری عبادات کا بھی یہی معاملہ ہے۔ دین میں جو کام بھی کرنے کے لیے بتائے گئے ہیں وہ محض اپنی شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ جن اذکار اور دعاؤں کی فضیلت بیان کی گئی ہے جن عبادات کے ادا کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہے، جن اخلاق واعمال کو یہ اہمیت دی گئی ہے کہ ان کو اختیار کیے بغیر سرے سے دعوے سے دعوے ایمان ہی معتبر نہیں ہوتا۔ ان سب کا مطلب دراصل یہ بتانا ہے کہ خدا پرستانہ زندگی کے مظاہر کیا ہوتے ہیں نہ یہ کہ کن مظاہر کا نام خدا پرستی ہے۔ عمل میں خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ نہیں ہے کہ زبان سے اس کے لیے چند تعریفی کلمات کا ورد کر لیا جائے، نماز روزہ اور حج کے نام پر کچھ مخصوص عبادتی افعال انجام دیدیئے جائیں۔ مال میں سے ایک مقررہ حصہ نکال کر غریبوں میں بانٹ دیا جائے۔ یا زبان و قلم کے ذریعہ سے خدا کے دین کی تبلیغ کردی جائے۔ بے شک یہی وہ اعمال ہیں جو خدا پرستانہ زندگی کے لیے لازمی پروگرام کی حیثیت رکھتے ہیں اور خدا پر ایمان جب بھی انسانی زندگی میں ظہور کرے گا وہ انہی شکلوں میں ظہور کرے گا۔ ان کے ظاہر ہونے کا کوئی اور قالب اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا ہے۔ مگر ان خارجی شکلوں کے پیچھے وہ اصل چیز جو خدا کو مطلوب ہے اور جس کی موجودگی کسی آدمی کو اس بات کا مستحق بناتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اسے حاصل ہوں، وہ دراصل دل کی یہ اندرونی کیفیت ہے کہ آدمی کے جذبات و خیالات بالکل خدا کی مرضی کے تابع ہو جائیں۔ اس کو وہی چیز پسند ہو جس کو خدا پسند کرتا ہے، اور وہی چیز ناپسند ہو جس کو خدا ناپسند کرتا ہے۔ جو چیز خدا کی مرضی کے خلاف ہو اس کا وہ دشمن بن جائے اور جو چیز خدا کو محبوب ہو اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page