ادارۃ الیاس
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲
کبن میں اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اور میں بناوٹ کرنے والوں میں نہیں ہوں (لا ازید علیہ ولا انقص منہ، ابن کثیر)۔ یہ تو صرف نصیحت ہے سارے عالم کے لئے۔ اس قسم کی تحریکیں ہمیشہ خواص کے تعاون سے چلتی ہیں نہ کہ عوام کے تعاون سے۔ مکہ میں اسلامی تحریک زیادہ تر دو تاجروں کے مالی تعاون سے چلتی رہی۔ ایک خدیجہ بنت خویلد، دوسرے ابو بکر بن ابی قحافہ ۔ یہی آج بھی ہوگا ۔ الرسالہ کی آواز اگر کچھ خواص کے اندر یہ حرارت پیدا کر سکے کہ وہ مالیاتی قربانی کی حد تک اعلانِ حق کی اس اسکیم کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو یقیناً وہ جاری رہے گا۔ اور اگر خدانخواستہ اس کے برعکس صورت پیش آئی تو مذکورہ بالا قسم کی تجویز میں اس کو چلانے والی نہیں ہو سکتیں ۔ ایسی کسی تجویز میں اس ” ٢٥ پیسے “ کے بقدر افادیت بھی نہیں ہے جس سے ہمارا ایک ہمدرد ڈاک خانہ سے لفافہ خریدتا ہے اور اپنی تجویز کو اس میں ملفوف کر کے ہمارے نام روانہ کرتا ہے۔ ہمارے ہمدردوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ الرسالہ کے اجراء کا مقصد کوئی صحافتی چاٹ ہاؤس کھولنا یا ادبی شیریں بھون قائم کرنا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم "صحت" اور ”ادب“، جیسے الحاقات کے بغیر اس کو کرنا زیادہ پسند کرتے۔ الرسالہ دراصل وقت کے معیارِ فکر پر اسلام کو اس کا مقام دلانے کی کوشش ہے۔ یہ دورِ جدید کی سطح پر اسلام کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ایک مہم ہے۔ اس قسم کی آواز کو سمجھنے اور اس کو لے کر آگے بڑھنے والے قرآن کے الفاظ میں ”ملا قوم“ ہوتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الرسالہ کے مخاطب اصلاً عوام نہیں ہیں۔ بلکہ قوم کا وہ باشعور طبقہ ہے جو باتوں کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور عملی یا فکری طور پر عوام الناس کو اپنے ساتھ چلانا ہے۔ عوام کے لئے قابلِ مطالعہ بنانے کی خاطر "الرسالہ" کے معیار کو بدلنا خواص کے لئے اس کو ناقابل مطالعہ بنانے کے ہم معنی ہوگا۔ اور یہ قربانی بہر حال کسی طرح نہیں دی جاسکتی۔
ہمارے لئے عملاً اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ "الرسالہ" کو نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر چلائیں۔ کیونکہ الرسالہ کا مخاطب سب سے زیادہ جو گروہ ہے، وہ وہی ہے جو کسی رسالہ یا کتاب کو خرید کر پڑھنے میں ہمیشہ سب سے پیچھے ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں "الرسالہ" کے خریداروں کی تعداد بالفرض بہت بڑھ جائے، تب بھی کم از کم ابتدائی کچھ برسوں تک، وہ خسارہ ہی پر چلے گا۔ اس خسارہ کو کون پورا کرے ۔ اس قسم کی فکری مہم کے خسارہ کو پورا کرنے والے پہلے بھی چند دردمند لوگ ہوتے تھے ، آج بھی ایسے ہی کچھ لوگ ہوں گے۔ "الرسالہ" اگر اپنے پیچھے دردمندوں کی ایسی تعداد جمع نہ کر سکے تو اس کو بند کر دینا اس سے بہتر ہے کہ دوسرے جرائد کی طرح اس کو عوامی ذوق کی دکان بنا دیا جائے۔
"الرسالہ" کے جو ہمدرد ہمیں اس قسم کی تجویزیں بھیج رہے ہیں کہ "الرسالہ" کے معیار کو عوامی بناؤ تاکہ عوامی خریداری میں اضافہ ہوسکے ان سے ہم کہیں گے کہ "الرسالہ" کے ساتھ آپ کی زیادہ بڑی خیر خواہی یہ ہوگی کہ آپ اپنی تنہائیوں میں یہ دعا کریں کہ خدایا ! "الرسالہ" کے موجودہ علمی معیار کو برقرار رکھ، بلکہ اس کو اور زیادہ بلند کر تاکہ وہ خواص امت کے لئے قابل مطالعہ بن سکے اور کچھ صاحب خیر افراد کو اس کی مدد کے لئے کھڑا کر دے تا کہ نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر وہ امت کے باشعور اور تعلیم یافتہ افراد تک حق کا پیغام پہنچانے کا کام جاری رکھے "الرسالہ" کی کامیابی یہ ہے کہ امت کے باشعور طبقہ تک اسلام کا اصل پیغام مؤثر شکل میں پہنچادے، خواہ یہ طبقہ اس کا کوئی "اجر" دینے کے لئے تیار ہو یا نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues