ادارۃ الیاس
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳
ایک بزرگ راستہ چل رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معتقدین کی ایک بڑی جماعت تھی۔ راستہ میں ایک فقیر نے روکا :
" آپ نے بہت کچھ پڑھا اور جانا ہو گا۔ ایک بات میری بھی سن لیجیے "۔ اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولا : " سنئے ! وہاں کسی کی ساری پوتھی نہیں دیکھیں گے۔ آدمی سچ مچ جہاں ہے، بس وہیں انگلی رکھ دی جائے گی ؛ اتنا کہا اور خاموشی سے غائب ہو گیا ۔ آدمی لوگوں کے درمیان اس سے جانا جاتا ہے کہ وہ مقرر ہے، مصنف ہے، فلاں عہدہ اس کے پاس ہیں ۔ فلاں فلاں ملکوں کی اس نے سیاحت کی ہے ۔ اتنے آدمیوں کی جماعت اس کے ساتھ ہے۔ اس نے فلاں فلاں کارنامے انجام دیئے ہیں۔ وغیرہ ۔ مگر اکثر یہ تمام چیزیں مصنوعی ہوتی ہیں۔ انسان حقیقتًا کہیں اور ہوتا ہے، مگر دیکھنے میں کہیں اور نظر آتا ہے۔ اس کی تمام سرگرمیاں اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں ۔ اگر چہ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ خدا اور اس کے دین کے لئے سرگرم عمل ہے۔
کوئی انسان کہاں ہے ، یہ ہم نہیں جان سکتے ۔ مگر خدا اس کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ آخرت میں کسی آدمی کی زندگی کے ٹھیک اسی مقام پر وہ انگلی رکھ دے گا جہاں وہ حقیقتًا جی رہا تھا۔
ایک وزیر اعظم جب اقتدار کی کرسی پر ہو تو ملک کی تمام رونقیں اس کے جلو میں چلتی ہیں ۔ ہر طرف بس اسی کے شان دار کارناموں کی دھوم ہوتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس سے بڑھ کر انسانیت کا پیکر اور کوئی نہیں ۔ مگر جب عوام کی عدالت اس کو بے نقاب کرتی ہے اور اس کو مصنوعی رونقوں کے تخت سے اتار کر وہاں رکھ دیتی ہے جہاں وہ فی الواقع تھا تو اچانک دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی بظاہر روشن زندگی مکمل طور پر ایک تاریک زندگی تھی۔ وہ تمام تر اپنی ذات کی سطح پر جی رہا تھا۔ اگر چہ اس کے تحت ابلاغ کے تمام محکمے رات دن اس پروپیگنڈے میں مصروف تھے کہ وہ خدمت قوم اور تعمیر ملک کی سطح پر زندگی گزار رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues