تاریخ کے صفحات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴
تاریخ کے صفحات
فلکی طبیعیات کے مطابق ایک عظیم دھماکہ (BIG BANG) نے عالم طبیعی کو اس کی مقررہ شاہراہ پر ڈالا تھا۔ پیغمبر اسلام کی آمد اس دنیا کا دوسرا عظیم دھماکہ ہے جس نے عالم انسانی کو اس کی مقررہ شاہراہ پر ڈال دیا۔ اس سلسلہ کا تیسرا دھماکا وہ ہے جس کو علمی انفجار (KNOWLEDGE EXPLOSION) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسرار فطرت کے انکشاف نے ان غیبی حقائق کو علمی طور پر قابل فہم بنا دیا جس کو پیغمبروں نے الہامی طور پر کھولا تھا۔ کائنات کے تین اہم ترین واقعات ہیں جن کو قرآن نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
فتق کائنات (انبیاء - ۳۰)
اظہار دین (فتح - ۲۸)
آیات آفاق و انفس کا ظہور (فصلت - ۵۳)
قرآن کے مطابق کائنات ابتدائے حالت رتق میں تھی، اللہ نے اس کا فتق کیا۔ یہ گویا پہلا عظیم دھماکہ تھا جو فلکی طبیعیات کے اندازہ کے مطابق ۱۰ بلین سال پہلے پیش آیا۔ اس نے کائنات کے اندرونی طور پر جڑے ہوئے مادہ کو بیرونی سمت میں حرکت دے دی ۔ مادہ پھیلنا شروع ہوا اور بالآخر وہ پوری کائنات اور نظام شمسی وجود میں آئے جن سے آج ہم واقف ہیں۔ بائبل کی روایات کے مطابق اب سے آٹھ ہزار سال قبل جب پہلے انسان (آدم) پیدا کئے گئے اور عراق میں دجلہ و فرات کے درمیان (پیدائش ۲ : ۱۴) میں آباد ہوئے تو وہ دنیا آخری طور پر تیار ہو چکی تھی جس میں وہ سب کچھ مکمل طور پر موجود ہے جو انسان کو اپنی ضرورتوں کے لئے درکار ہو سکتا ہے۔ (ابراہیم - ۳۴) علم الانسان کے ماہرین کے اندازہ کے مطابق انسان کے ظہور سے اب تک تقریباً ایک سوارب (ایک کھرب) انسان زمین پر پیدا ہو چکے ہیں۔ مادی ضرورتوں کے لئے انسان کو ایک مکمل کائنات حاصل ہو گئی۔ اب اس کو ضرورت ایک ایسے ہدایت نامہ کی تھی جس کی روشنی میں وہ اپنے لئے حیات طیبہ (نحل - ۹۷) کی تعمیر کر سکے۔ پہلی چیز اگر نعمت ظاہری تھی تو دوسری چیز نعمت باطنی (لقمان - ۲۰)۔ اللہ نے یہاں قلم (علق - ۴) کا ذریعہ اختیار کیا۔ اس نے انسان کی اس دوسری ضرورت کی تکمیل کے لئے اس کے پاس وہ ابدی ہدایات بھیج دیں جن کی روشنی میں وہ اپنی سرگرمیوں کے لئے صحیح نقطہ آغاز کو پالے اور وہ بنیادی اصول اس کو مل جائیں جن کے مطابق وہ اپنی زندگی کو ترتیب دے سکے۔ چنانچہ آدم جب زمین پر آئے تو وہ خدا کی یہ رہنمائی بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آدم نے ان تعلیمات کو کچی مٹی کی تختیوں پر لکھا اور پھر ان کو پکا کر اپنے خاندان میں محفوظ کر دیا۔ مگر ان کی اگلی نسل ان کی حفاظت نہ کر سکی۔ اللہ نے دوسرے نبی کے ذریعہ دوبارہ اپنی تعلیمات کو اتارا۔ مگر انسان نے پھر ان کو ضائع کر دیا۔ آدم کے بعد ادریس، نوح، ابراہیم، اسرائیل، موسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی اولاد میں کثیر تعداد میں پیغمبر آئے۔ اور خدا کی طرف سے تختیاں اور کتاب (فاطر - ۲۵) انسان کے حوالے کرتے رہے۔ مگر بار بار یہی ہوا کہ اگلی نسلیں ان کی حفاظت میں ناکام رہیں ۔ کبھی ان کے علماء نے کتاب اللہ میں اپنی باتیں اس طرح ملا دیں کہ دونوں کو الگ کرنا نا ممکن ہو گیا۔ (تورات) کبھی اصل متن غائب
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues