تاریخ کے صفحات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۵
ہو گیا اور صرف اس کا ترجمہ باقی رہ گیا (انجیل)۔ کبھی کسی ارضی یا سماوی آفت میں کتاب ضائع ہو گئی (صحیفہ ابراہیم) اس طرح انسان اس اعتماد میں پورا نہ اترا کہ وہ بطور خود کتاب الہی کا محافظ (مائدہ ۴۸ م) بن سکے ۔ بالاخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق فیصلہ کیا کہ کتاب اتارنے کے ساتھ وہ اس کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لے (حجر۔ ۹) تاکہ انسان کے اوپر جس طرح نعمت مادی کا اتمام ہوا ہے، نعمت ہدایت کا بھی اس کے اوپر یقینی اتمام ہو جائے (نحل: ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام کی بعثت خدا کا دوسرا دھماکہ تھا۔ فاران (استثنا ۳۳: ۲) کے علاقہ مکہ (زبور ۸۴: ۶) میں بنی اسرائیل کے بھائی (استثنا۔ ۱۸:۱۸) بنی اسماعیل میں آتشیں شریعت (استثنا ۳۳: ۲) والا رسول بھیجا گیا۔ اللہ نے اس کے لئے مقدر کر دیا کہ اس کو نہ زوال نہ ہوگا اور نہ وہ مسلا جائے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کر لے (یسعیاہ ۴۲: ۳)۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: خدا اس رسول کے ذریعہ اپنے دین کو غالب کرے گا اور اپنے نور کا اتمام کر کے رہے گا، خواہ یہ کافروں اور مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو (برارہ ٫۶، فتح، صف)۔ اتمام نور سے مراد قرآن کو اتارنے کے بعد اس کو قیامت تک کے لئے محفوظ کر دینا ہے۔ اور غلبہ " سے مراد اس کی پشت پر ایسی طاقت جمع کر دینا ہے جو اس میں تحریف و تبدیلی کی ہر کوشش کو نا ممکن بنا دے ۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ "آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے ناامید ہو گئے ، اس لئے تم ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کر دیا۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا (مائدہ ۔ ۳) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے جو دین آئے وہ ناقص دین تھے اور اسلام مکمل دین ہے۔ خدا نے اپنے بندوں کے پاس کبھی کوئی ناقص دین نہیں بھیجا۔ اسلام کے کامل ہونے کا تعلق اس کی حفاظت سے ہے نہ کہ فہرست احکام سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دین کو اپنی صحیح شکل میں اتارنے کے ساتھ مزید تکمیلی اہتمام کیا گیا ہے کہ اس کی پشت پر قوت بھی جمع کر دی گئی ہے تاکہ کوئی منکر یا غیر منکر اس کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچا سکے ۔ یہی بات دوسری جگہ ان لفظوں میں کہی گئی ہے : اور تیرے رب کا کلام پورا ہو گیا صداقت اور انصاف میں ، اب کوئی اس کلام کو بدلنے والا نہیں (انعام۔ ۱۱۵)
قدیم زمانہ میں قرآن میں مذکور تقریباً دو درجن اور بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ ہم ہزار پیغمبروں کے آنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا کہ دین خداوندی کی پشت پر ایسی اجتماعی قوت جمع ہوتی جو انسانی زندگی میں مطلوبہ انقلاب برپا کرتی ۔ اللہ نے آخری رسول کے ذریعہ یہ کیا کہ اپنے دین کو غالب کر کے اس کو قیامت تک کے لئے ایک تاریخی واقعہ بنا دیا جب کہ اس سے پہلے وہ افسانوی روایات کا مجموعہ بنا ہوا تھا۔ بائبل کے الفاظ میں "خداوند کاروز عظیم"(صفنیاہ ۱: ۱۴) تاریخ کا یہی لمحہ تھا جب کہ انسانی تاریخ کو اس کے مطلوبہ رخ کی طرف بحر موڑ دیا گیا ۔ اسی کے ساتھ آپ نے کتاب الہی کو مدون کر کے اس کو ایک عظیم امت کے حوالے کیا۔ جو اس کو لے کر انتہائی حفاظت کے ساتھ نسل در نسل چلتی رہی۔ یہاں تک کہ اس کو دور رسیں میں پہنچا دیا جس کے بعد اس کے ضیاع یا تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔
متن قرآن کی حفاظت کی اہمیت کیا ہے، اس کو ان اسلامی فرقوں کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے جو بعد کے دور میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues