اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰
نہ کہ حالات کا اندازہ کئے بغیر چھلانگ لگانے کا قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلُمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (حج- ۳۹) ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جاتی ہے ، اس لئے کہ ان پر ظلم ہوا اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
مکہ کے مشرک مسلمانوں کو بہت تکلیفیں دیتے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے کہ کسی کا سر پھٹا ہوتا، کوئی زخمی ہوتا، کوئی چوٹ کھایا ہوا ہوتا۔ وہ آپ سے شکایتیں کرتے۔ مگر آپ کا جواب صرف یہ ہوتا: صبر کرو مجھے ابھی لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فانی لم اومر بالقتال ، تفسیر النسفی)۔ اسی حال میں تیرہ برس گزرگئے۔ پھر ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں قتال کی ہدایات بھیجی گئیں۔ عبد الرزاق ، عبد بن حمید، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بزار، ابن جریر ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں عبد اللہ بن عباس کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کچھ اوپر ستر آیات میں قتال کی ممانعت کے بعد اجازت کی یہ پہلی آیت قرآن میں نازل ہوئی (رھی اول آية أذن فيها بالقتال بعد ما نھی عنہ فی نیف وسبعین آية)
یہاں یہ سوال ہے کہ مسلمانوں پر ظلم تو مکہ کے دور میں اپنی بد ترین شکل میں ہورہا تھا، اور اللہ بلاشبہ اس وقت بھی مسلمانوں کی نصرت پر پوری طرح قادر تھا۔ پھر مکہ میں "قتال" کی اجازت کیوں نہ دی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے قانون کے مطابق مسلمان ابھی اتنے طاقتور نہ ہوئے تھے کہ ان کا کوئی اقدام فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچ سکتا۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کی طاقت اس معیار کو پہنچ گئی تو ان کا اقدام یوم الفرقان (انفال - ۴۱) کو وجود میں لانے کے ہم معنی بن سکے تو مڈبھیڑ کی اجازت دے دی گئی۔
پچھلے ڈیڑھ سو برس سے اسلام کے علم بردار جس طرح اپنے مفروضہ حریفوں سے ٹکرا رہے ہیں اور نقصان ہر بار اسلام کے علم برداروں کے حصہ میں آتا ہے، وہ اس قرآنی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات محض نادانی کے اقدامات تھے ، اگر چہ غلط طور پر ان کو ” اسلامی جہاد “ کا مقدس نام دے دیا گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues