قومی کردار
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵
کرتا ہے اور اس کو خدا کی نصرت سے محروم کر دیتا ہے۔ اصحاب رسول جو سب پاکباز لوگ تھے، ان کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوتے تھے۔ مگر وہ کبھی اختلافات کو عناد بننے نہیں دیتے تھے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اختلاف کے ساتھ اتحاد کے تقاضوں کو کس طرح پورا کرنا چاہئے۔
حضرت معاویہ بن ابی سفیان ہجرت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئے اور سنہ 60ھ میں وفات پائی۔ وہ وہ حضرت علی بن ابی طالب سے چھ سال چھوٹے تھے۔ حضرت علی چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے تو امیر معاویہ شام کے حاکم تھے۔ اس کے بعد دونوں میں اختلاف ہوا جو حسن بن علی تک جاری رہا۔ بالآخر فیصلہ امیر معاویہ کے حق میں ہوا۔ ربیع الاول ۴۱ھ سے لے کر آخر عمر تک (۲۰ سال) وہ تقریباً تمام اسلامی دنیا کے خلیفہ رہے۔
جس زمانہ میں علی و معاویہ کے درمیان اختلافات بڑھے ہوئے تھے، قسطنطنیہ (استنبول) کی عیسائی حکومت نے سمجھا کہ مسلم سلطنت پر حملہ کرنے کا یہ موزوں ترین وقت ہے۔ اس نے عیسائیوں کی ایک بڑی فوج تیار کی اور ایران کے شمالی صوبوں پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں ۔ یہ علاقہ اس وقت حضرت علی کی حکومت میں شامل تھا۔ اگر یہ حملہ ہو جاتا تو اس وقت حضرت علی کے لئے اس کو بچانا مشکل ہو جاتا ۔ بظاہر دکھائی دیتا تھا کہ یہ پورا حصہ کٹ کر عیسائی سلطنت میں شامل ہو جائے گا۔ عیسائی حکمران حضرت علی کی مشکلات سے خوب واقف تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ علی ، امیر معاویہ کے لئے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ علی کو کمزور کرنے کی عیسائی کوشش سے خوش ہوں گے اور مزاحمت نہیں کریں گے۔ اس طرح علی کو زیر کرنا ان کے لئے آسان ہو جائے گا۔ مگرامیر معاویہ ، علی بن ابی طالب سے اختلاف کے باوجود ان کے معاند نہیں بن گئے تھے۔ وہ اس بات کے لئے تیار نہ تھے کہ ان دونوں کا باہمی اختلاف اسلامی دنیا کے لئے کسی نقصان کا سبب بن جائے۔ انھوں نے اس خبر کے سنتے ہی قیصر (قسطنطنیہ کے بادشاہ) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا :
”اے رومی کتے ! اگر تو ہمارے باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ہم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو تجھ کو معلوم ہونا چاہئے کہ علی کی قیادت میں جو لشکر تیرے مقابلے کے لئے نکلے گا ، معاویہ اس لشکر کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوگا! ‘‘ یہ خط عیسائی حکمران کے لئے ایک فوج سے بھی زیادہ شدید ثابت ہوا ۔ اس نے اسلامی علاقہ پر حملہ کا ارادہ ترک کر دیا ۔
قومی کردار
دوسری جنگ عظیم میں جب کہ برطانوی فوج کے سامنے یہ مہم تھی کہ وہ ڈنکرک میں پھنسے ہوئے پانچ لاکھ فوجیوں کو فوری طور پر نکالے ، اس وقت کے برطانی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے قوم سے اپیل کی کہ جن لوگوں کے پاس کشتیاں اور اسٹیمر ہیں ، وہ بطور خود ان کو فلاں مخصوص مقام پر پہنچا دیں۔ پوری قوم نے اس اعلان کی تعمیل اس طرح کی کہ کوئی ایک شخص بھی نہ بچا جس نے اپنی کشتی اور اسٹیمر مقررہ مقام پر نہ پہنچا دی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues