آغازِ کلام
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷
آغازِ کلام
ستمبر ۱۹۷۷ کی ۲۱ تاریخ تھی۔ راقم الحروف (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں یہ خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لئے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے، جو موجودہ وقت کی زبان اور اسلوب میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لئے دی جاسکے۔ "کاش اللہ تعالیٰ مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے" یہ نمایسے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا: : G O D A R I S E S یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اس وقت پوری طرح مجھ پر واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد حسبِ معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو نہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ ARISE کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے : LET GOD ARISE, LET HIS ENEMIES BE SCATTERED, LET THEM ALSO THAT HATE HIM FLEE BEFORE HIM. AS SMOKE IS DRIVEN AWAY, SO DRIVE THEM AWAY; AS WAX MELTETH BEFORE THE FIRE, SO LET THE WICKED PERISH AT THE PRESENCE OF GOD. Psalm 68: 1-2 خدا اٹھے۔ اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں۔ جس طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انہیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں۔
زبور کی یہ دعا حقیقۃً پیغمبرِ اسلام کی آمد کی پیشین گوئی ہے۔ یہ اسی منصوبہ الہی کا ذکر ہے جو قرآن میں سورہ صف (۸ - ۹) اور سورہ فتح (۲۸) میں وارد ہوا ہے۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ جس عظیم الشان سطح پر اپنے دین کا اظہار کرنے والا تھا، اسرائیلی پیغمبر (داؤد) کی زبان سے بہ شکل دعا اس کو کہلا پا گیا۔ جو نبی آخر الزمان سے ڈیڑھ دو ہزار برس قبل پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح گویا اذان اور اقامت کے درمیان مسجد کے اس تجربہ میں مجھ کو کتاب کا نام اور اس کا موضوع دونوں بتا دیا گیا۔ عمر کی چھٹی دہائی میں پہنچنے کے بعد میری بہترین تمنا یہ تھی کہ میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام پر ایک کتاب تیار کر سکوں جو اردو میں "ظہورِ اسلام"، اور انگریزی میں GOD ARISES کے نام سے شائع ہو۔ مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اپنی تکمیلی شکل میں شاید کسی اور سے لیا جانے والا ہے، کیونکہ اس کی باقاعدہ تیاری کے لئے جو مواقع درکار ہیں، وہ موجودہ حالات میں مجھے حاصل نہیں۔ زیر نظر مجموعہ میں چند مطالعہ اس امید میں پیش کیا جا رہا ہے کہ کسی آنے والے کے لئے شاید وہ نقشِ اول کا کام دے سکے۔ وحید الدین ۲۷ اکتوبر، ۱۹۷۴ء
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues