Al-Risala · December 1977 · page 18

اعتراض برائے اعتراض

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

اعتراض برائے اعتراض

۱۔ یونیورسٹی کے ایک استاد کو ان کے ساتھی نے کتاب ’’ "الاسلام" پڑھنے کے لئے دی۔ انھوں نے کتاب کھولی تو اس کا پہلا جملہ سامنے آیا:

’’ انسانی تاریخ کو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ دور سائنس سے پہلے اور دور سائنس کے بعد۔ وہ چیز جس کو دورِ جدید کہتے ہیں، وہ حقیقتاً دورِ سائنس کا دوسرا نام ہے۔ یہ دور ممتاز طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری عالمی جنگ تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا،، (صفحہ ۳)

ان سطروں کو دیکھ کر انھوں نے کتاب واپس کر دی۔ انھوں نے کہا: ’’ میں ایسی کتاب کو یں پڑھ سکتا جس کا پہلا جملہ ہی غلط ہو۔ سائنس سترھویں صدی میں شروع نہیں ہوئی، وہ اس سے بہت پہلے موجود تھی۔ ‘‘ مذکورہ بزرگ اگر کتاب واپس کرنے میں جلدی نہ کرتے اور اس کے بقیہ صفحات کو بھی پڑھنے کی کوشش کرتے تو ان کی غلط فہمی بآسانی دور ہو جاتی۔ کیوں کہ اسی کتاب میں آگے یہ سطریں موجود ہیں:

’’ سائنس کے ظہور کے ابتدائی عناصر اگر چہ تاریخ میں بہت پہلے سے کام کر رہے تھے۔ تاہم وہ نمایاں وقت جب کہ انسانی تاریخ ایک دور سے نکل کر دوسرے دور میں داخل ہوئی، اس کا آغاز نیوٹن (۱۶۴۲ء - ۱۷۲۷) سے ہوتا ہے؛ (الاسلام صفحه ۱۷۴)

آدمی دوسرے پر تنقید کرنے میں بہت کم انصاف سے کام لیتا ہے۔ اگر چہ ہر ناقد ہمیشہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کی تنقید عین انصاف کے مطابق ہے ۔

۲۔ الاسلام کے پہلے باب میں رویتِ ہلال کے مسئلہ پر ایک ضمنی گفتگو ہے۔ اس سلسلے میں لکھا گیا ہے : دو حدیث میں ہے کہ اگر ۲۹ تاریخ کو افق پر بادل آجائیں اور چاند دیکھا نہ جاسکے تو ۳۰ تاریخ کو چاند کا دکھائی دینا ضروری نہیں۔ اس کے بعد بطور واقعہ رویت مان لی جائے گی۔ ۔ ۔ ۲۹ تاریخ کو چونکہ رویت کا علم صرف آنکھ کے ذریعہ ہو سکتا تھا، اس لئے آپ نے دیکھنے کا حکم دیا۔ ۳۰ تاریخ کو معلوم فلکیاتی قانون پر قیاس کرنا کافی نہ تھا، اس لئے آپ نے دیکھنے کی شرط حذف کردی‘۔ الاسلام ، صفحہ ۱۵ اس کے بارے میں ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ وہ غلط ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں ” غلط اس پہلو سے ہے کہ ۳۰ تاریخ کو رویتِ ہلال ضروری نہ ہونے کی وجہ فلکیاتی قانون پر قیاس نہیں ہے جیسا کہ مصنف نے لکھا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی قمری مہینہ ۳۰ دنوں سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ اس لئے ۳۰ کو رویتِ ہلال کی ضرورت نہیں ہے۔ رویتِ ہلال کی بحث پیدا ہی اس لئے ہوتی ہے کہ بعض قمری مہینے ۲۹ کے بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ ۲۹ کو بادل یا کسی اور وجہ سے رویتِ ہلال نہ ہو تو ۳۰ دن پورے کر لئے جائیں۔ “ ” معلوم فلکیاتی قانون پر قیاس‘ کے لفظ سے الاسلام کے مصنف کی مراد ٹھیک وہی ہے جس کو تنقید نگار نے ان لفظوں میں لکھا ہے کہ ”کوئی قمری مہینہ ۳۰ دنوں سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ مگر جب اعتراض برائے اعتراض کا ذہن ہو تو آدمی بھول جاتا ہے کہ کیا بات قابلِ تنقید ہے اور کیا بات قابل تنقید نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page