اعتراض برائے اعتراض
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
۳- الاسلام کے بارے میں ایک بے لاگ ناقد تحریر فرماتے ہیں "اس کتاب کی ایک نمایاں بات اس کی تضاد بیانی بھی ہے۔ میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں"۔ اس سلسلے میں انھوں نے تضاد بیانی کی یہ مثال پیش فرمائی ہے کہ کتاب میں شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی کے بارے میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر سے مل کر انھوں نے جو اسلامی خدمات انجام دیں، اگر موجودہ زمانہ کے مصلحین نے بھی اسی ڈھنگ سے کام کیا ہوتا تو اب تک اظہار دین اور غلبہ اسلام کا وہ کام انجام پاچکا ہوتا جس کے لئے ابھی ہم صرف غور و فکر کر رہے ہیں" (صفحہ ۱۸) دوسری طرف انھیں مجددالف ثانی کے بارے میں اس کتاب میں یہ الفاظ درج ہیں:
"واسکوڈی گاما کے انتقال کے سو سال بعد شیخ احمد سرہندی (۱۶۲۵ - ۱۵۶۴) پیدا ہوتے ہیں ان کا زمانہ ٹھیک وہی ہے جب کہ جنوبی ہند کے ساحل پر وہ واقعہ رونما ہو چکا ہے جو بالآخر اس ملک کی نئی تاریخ بنانے والا ہے مگر انھیں اس واقعہ کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ایک طرف عالم بالا میں ان کی روحانی پرواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ وحدت وجود کی پیچیدہ بحث پر مجتہدانہ فیصلے دے سکیں مگر وہ خود اپنے ملک کے اس واقعہ سے بے خبر رہتے ہیں کہ مغربی قومیں بحری طاقت کو ترقی دے کر ملک کے سواحل پر قبضہ کر رہی ہیں جو بالآخر یہاں تک پہنچنے والا ہے کہ مدراس سے لے کر بمبئی اور کلکتہ تک کا پورا ساحلی ہندوستان ان کے قبضہ میں چلا جائے اور دہلی کی سلطنت ان کے مقابلے میں بے بس ہو کر رہ جائے وہ اکبری فتنوں کو دیکھتے ہیں مگر یہ زیر نگالی فتنے انھیں نظر نہیں آتے جو بعد کو پیدا ہونے والے نتائج کے اعتبار سے بدرجہا شدید ہیں"۔ ص ۱۷۳ الاسلام کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد محترم ناقد لکھتے ہیں "پہلی تحریر سے حضرت مجدد کے بارے میں جو خیال قائم ہوتا ہے، اس دوسری تحریر سے اس کے برعکس خیال قائم ہوتا ہے۔ "
فاضل ناقد کو ان دونوں عبارتوں میں "تضاد"
اس لئے نظر آیا کہ ان کی "بے لاگ تنقید نگاری" کا اصول غالباً یہ ہے کہ کسی شخص میں اگر ایک بات قابلِ تنقید نظر آئے تو اس کے یہاں کسی بھی قسم کی کسی خوبی کا اعتراف نہیں کیا جا سکتا۔
اصل یہ ہے کہ الاسلام کے صفحہ ۸ پر طریق کار کے مسئلہ کا ذکر ہے اور صفحہ ۳۶ پر جو گفتگو ہے، وہ ایک نظریاتی گفتگو ہے اور اس کا تعلق عصری تقاضوں کو سمجھنے سے ہے۔ مصنف کا کہنا یہ ہے کہ حضرت مجدد صاحب اپنے وقت کے اصل عصری مسئلہ (مغربی فتنہ) کو سمجھ نہ سکے۔ تاہم طریق کار کی بحث کے ذیل میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کے یہاں ایک قابلِ تقلید مثال پائی جاتی ہے۔ اپنے زمانہ کے ایک مقامی مسئلہ (اکبری فتنہ) کو فرو کرنے کے لئے انھوں نے جو طریق کار اختیار کیا، وہ ، بحیثیت طریق کار کے ، ایک حکیمانہ طریقہ تھا اور اس قابل تھا کہ وسیع تر مسئلہ اسلام کے احیاء) کے سلسلے میں اس کو عملاً اختیار کیا جاتا۔ اختلاف کے وقت انصاف ایک شخص بحث و گفتگو میں "مکمل اسلام" سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہو، مگر اختلاف کے وقت وہ انصاف سے ہٹ جائے (مائدہ - ۸) تو یہ عجیب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مکمل اسلام کی علم برداری کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جزوی اسلام پر بھی قائم نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues