Al-Risala · December 1977 · page 29

مومن کی تصویر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

عزم ہے کہ بندہ اپنے رب کی خاطر ساری مشقتیں جھیلنے کے لیے تیار ہے اور حج گویا آدمی کی طرف سے اس تقریری کا اظہار ہے کہ وہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر خدا تک پہنچ جانا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلمہ توحید اور نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ بذات خود مکمل اسلام نہیں بلکہ یہ اسلام سے پیدا ہونے والی اندرونی کیفیات کے چند نشان ہیں۔ یہ مکمل حوالگی کی جزوی تصویر ہے نہ کہ انھیں کا نام مکمل حوالگی ہے۔ یہ چیزیں جن کا حدیث میں ذکر ہے یہ شریعت کی وہ مخصوص چیزیں ہیں جن کو ہمارے اوپر فرض قرار دیا گیا ہے اور فرائض کے متعلق سمجھ لینا چاہیے کہ وہ راستے کی حد نہیں ہیں بلکہ وہ صرف راستے کی سمت بتاتے ہیں۔ یہ فرائض ایک طرح کی لازمی تربیت ہیں جو ہم کو مخصوص وقتوں میں ایک مقررہ عمل کرا کے اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ بقیہ وقت میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان کی حیثیت محض علامات کی ہے نہ کہ ذمہ داریوں کے حدود متعین کرنے کی۔

ایک مثال سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ نومبر ۱۹۵۹ء میں جب ہندوستان میں چینی جارحیت کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا۔ احمد آباد کے ۲۵ ہزار طلبہ نے یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے لڑیں گے اور اپنی جان دے کر چینی حملہ کا مقابلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد ان میں سے ہر شخص نے ایک ایک پیسہ دے کر ۲۵ ہزار پیسے جمع کیے اور ان کو ہندوستانی وزیراعظم کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسے دیتے ہوئے انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ یہ ہماری طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے TO GIVE OURSELVES TO YOU کا نشان ہے۔ یہ وقت کی ایک مثال ہے جس سے ہم اسلامی فرائض کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ بندہ فرائض اور واجبات کی شکل میں اپنے وجود کا تھوڑا حصہ خدا کو دے کر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اپنا پورا وجود خدا کو دینے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنی بعض حیثیتوں میں سے کچھ دے کر تمام حیثیتوں سے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔

اب نماز کو لیجیے جو اس سلسلے کی دوسری چیز ہے۔ جب کوئی شخص مکمل حوالگی کے ساتھ خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر اس کی پوری زندگی ذکر اور دعا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی ذکر اور دعا کی ایک مخصوص صورت کا نام نماز ہے۔ اہلِ ایمان کی تعریف قرآن میں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (سجدہ -۱۶) کے الفاظ میں کی گئی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمتوں کی تمنا کرتے ہوئے اسے پکارتے رہتے ہیں۔ جن واقعات کو دیکھ کر لوگ دوسری چیزوں کو یاد کرتے ہیں ان کو دیکھ کر مومن خدا کے تصور میں غرق ہو جاتا ہے۔ اگر وہ کسی جنازے میں شرکت کے لیے قبرستان جاتا ہے تو یہ موقع اس کے لیے بستی کے لوگوں سے ملاقات کی تقریب نہیں ہوتی بلکہ کھودی جانے والی قبر اس کے لیے ایک کھلا ہوا دروازہ بن جاتی ہے جس سے وہ آخرت کی حقیقتوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ اگر وہ کسی عالی شان مکان میں اپنے آپ کو پائے تو وہ اس کے نقش و نگار دیکھنے میں محو نہیں ہو جاتا بلکہ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا مجھے ایسا مکان

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page