مومن کی تصویر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳۰
نہیں چاہیے، میں تو تیری رحمت اور مغفرت کا طلب گار ہوں اور وہی تو مجھے دے دے۔ آکر وہ کسی تاریخی کھنڈر کے سامنے کھڑا ہو تو وہ اس کو محض آثار قدیمہ کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اس سے یہ عبرت حاصل کرتا ہے کہ ان آبادیوں کے بسنے والے اپنی آبادیوں کو چھوڑ کر جس دنیا میں چلے گئے ہیں وہیں مجھ کو بھی جانا ہے۔ اگر وہ کسی جدید طرز کے کارخانے میں داخل ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جو کام پہلے سخت قسم کی انسانی محنت سے انجام پاتا تھا، اس کو تیز رفتار مشینیں انجام دے رہی ہیں اور انسان ان کے سامنے کھڑا ہوا صرف ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے تو اس کو ’’صنعتی انقلاب‘‘ کے عجائب یاد نہیں آتے بلکہ وہ کارخانے کی شکل میں خدا کے انعامَات کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو نے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا ہے جس کی اسے ضرورت تھی، تو نے اسے ایک ایسی کائنات دی ہے جو اپنے ساز و سامان کے ساتھ گویا اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ انسان اگر ایک بٹن دبا دے اور ساری کائنات اس کی خدمت کے لیے حرکت میں آجائے۔
اسی طرح وہ خود جتنے عمل کرتا ہے وہ بھی خدا کو اپنی طرف مائل کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کا ہر عمل اپنے رب سے درخواست ہے جب وہ کسی کی عیب پوشی کرتا ہے تو گو یا وہ خدا سے اس کا متمنی ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کے عیبوں کو چھپائے۔ جب وہ کسی کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے اور اس کے حق سے زیادہ اسے دیتا ہے تو در حقیقت وہ دعا کرتا ہے کہ مالک حقیقی اس کے ساتھ بھی اسی طرح فیاضی کا معاملہ کرے حتی کہ جب وہ اپنے بچے کو گود میں لیتا ہے تو اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آجاتے ہیں اور وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا یہ بچہ جتنا کمزور ہے میں اس سے زیادہ تیرے سامنے بے بس اور کمزور ہوں تو میری مدد فرما! وہ کہتا ہے کہ میرے رب! جس طرح ایک چھوٹا بچہ ہکتا ہے تو شفیق باپ لپک کر اسے اٹھا لیتا ہے اسی طرح میں تیری طرف آنا چاہتا ہوں، مگر اپنے کمزور قدموں کے ساتھ میں تجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ تو ہاتھ بڑھا کر مجھے اٹھا لے !
نماز در حقیقت اسی مومنانہ زندگی کا نشان اور اس کا مرکزی نقطہ ہے۔ مومن کی پوری زندگی نماز ہوتی ہے، مخصوص اوقات میں جب وہ نماز پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی حالت نماز میں ہونے کی حیثیت کو مجسم اور مکمل کرتا ہے، نماز بندگی کی تصویر ہے۔ نماز اپنے رب سے قریب ہونے کی کوشش ہے۔ نماز خدا کے دربار میں حاضری کا وقت ہے۔ نماز ان جذبات کا ایک خارجی مظہر ہے جو مومن کے سینے میں تڑپ رہے ہوتے ہیں نماز ایک لحاظ سے دعا ہے، وہ اپنی عاجزی کو پیش کر کے خدا سے اس کی رحمت و مغفرت مانگتا ہے اور دوسرے لحاظ سے وہ اسی قسم کا ایک بتیا بانہ عمل ہے جو ایک شخص اپنے محبوب دوست کے لیے کرتا ہے جب کہ وہ اس سے بچھڑ گیا ہو اور تصور کی دنیا میں اس تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ نماز خدا کا اپنے بندے کی طرف آنا اور بندے کا اپنے رب تک پہنچ جانا ہے۔ بندہ جب نماز میں مشغول ہوتا ہے تو وہ دوسری تمام حالتوں کے مقابلے میں خدا سے زیادہ قریب ہوتا ہے چنانچہ نماز کے وقت اس کو ایک خاص طرح کی قربت کا احساس
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues