Al-Risala · December 1977 · page 31

مومن کی تصویر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱

ہوتا رہتا ہے مگر جوں ہی نماز پوری کر کے وہ سلام پھیرتا ہے اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی ایئر کنڈیشنڈ عمارت سے یکایک باہر آگیا ہو۔ مختصر یہ کہ نماز وہ مقام ہے جہاں خدا اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے جس طرح جنت کی زندگی کے بارے میں آتا ہے کہ جب جنتیوں کو خدا کا دیدار کرایا جائے گا تو وہ جنت کے بہترین آرام و عیش بھول جائیں گے اور انہیں محسوس ہوگا کہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو انہیں نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح کیفیت سے بھرا ہوا ایک سجدہ ایسا سجدہ جس سے سر اٹھانے کا جی نہ چاہے دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ ہے۔ ایسے سجدوں والی نماز ہی حقیقی معنوں میں نماز ہے اور جس کو ایسے سجدوں کی توفیق نہیں ہوئی وہ گویا ابھی تک نماز سے آشنا ہی نہیں ہوا۔ ایسے شخص سے میں خدا کے رسول کی زبان میں کہوں گا کہ اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ۔ (جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی) حدیث میں نماز کو دین کا ستون کہا گیا ہے۔ یہ نماز کے تربیتی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ نماز مومن کی تربیت ہے۔ ایک طرف وہ آدمی کے اندر وہ خصوصیات پیدا کرتی ہے جن سے وہ دین کا حامل بن سکے۔ اور دوسری طرف وہ آدمی کو اس مقصد کے لیے تیار کرتی ہے کہ وہ حق کا علمبردار بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہو۔ نماز کے یہ دونوں فائدے سورہ مزمل کی ابتدائی آیتوں میں بیان کئے گئے ہیں، ارشاد ہوا ہے :- يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ٥ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ٥ اے چادر اوڑھنے والے! راتوں میں نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ٥ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ قیام کر تھوڑے حصے کو چھوڑ کر یعنی آدھی رات یا وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ٥ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر قَوْلًا ثَقِيلًا ٥ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ ٹھہر کر پڑھ۔ ہم تم پر ایک بھاری بات اتارنے والے وَطْءًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ٥ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا ہیں بے شک رات کو اٹھنا نفس کو خوب کچلتا ہے طَوِيلًا ٥ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ اور ایسی حالت میں جو بات نکلتی ہے وہ بھی بہت تَبْتِيلًا ٥ درست ہوتی ہے دن کے وقت تمہیں لمبی مشغولیت (مزمل : ۱-۸)

ہوتی ہے اور اپنے رب کے نام کا ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کا ہونا۔

ان آیات میں نماز کے ایک پہلو کو وِطْاً شدید کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے آدمی مقالِ اقوم (درست گفتگو) کے قابل بنتا ہے اور اس کے دوسرے پہلو کو ذکر اسم رب کہا گیا ہے جس سے تبتل الی اللہ (خدا کی طرف یکسوئی) کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوپر حق کی تبلیغ کرنے کی جو ذمہ ڈالی ہے وہ ایک نہایت گراں بار ذمہ داری ہے جس کو اوپر کے ٹکڑے میں قول ثقیل کہا گیا ہے۔ اس قول ثقیل کا بوجھ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی زبردست رياضتیں کر کے اپنے اندر وہ قوت پیدا کرے جس سے اس کا بوجھ اٹھانا آسان ہو جائے ۔ اس ریاضت

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page