مومن کی تصویر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۲
کا طریقہ لمبی قرأت والی طویل نمازیں ہیں جن کا بہترین وقت رات کی تنہائی ہے۔ رات میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ایک بڑا مشقت کا عمل ہے جس کو یہاں وطا شدید (بہت ردندنا) کہا گیا ہے۔ اس وطا شدید کے ذریعہ من اپنے نفس کو کچلتا ہے اور اس حالت میں قرآن پڑھ کر اپنے ذہن کو صاف اور دل کو پاک کرتا ہے۔ اس طرح تربیت پا کر وہ انسان تیار ہوتا ہے جو اعلیٰ اخلاقی اوصاف رکھنے والا ہو اور مقال اقوم کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ انجام دے سکے۔ رات کو خدا کے سامنے کھڑا ہونا آدمی کو اس قابل بناءتا ہے کہ وہ دن کو بندگان خدا کے سامنے کھڑا ہو، اور خدا کے کلام کے مطالعہ سے اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول سکے۔ نماز کا دوسرا پہلو ذکر اسم رب ہے جو تبتیل الی اللہ کی کیفیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی خدا کی یاد میں اس قدر مشغول ہونا کہ ذہنی حیثیت سے آدمی ایسا ہو جائے گویا وہ دنیا سے کٹ کر خدا سے جڑ گیا ہے۔ یہ نماز صرف یاد کی شکل میں بھی ہوتی ہے جس کو قرآن میں ذکر کثیر کہا گیا ہے اور قیام و قعود اور رکوع و سجود کی شکل میں بھی جو نماز کی مخصوص صورت ہے۔ آدمی جب دن کے وقت اپنی مشغولیتوں میں خدا کو یاد کرتا رہتا ہے اور جب مخصوص اوقات کے آتے ہی وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں مسجد کے لیے روانہ ہو جاتا ہے تو اس کے ذریعہ سے وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مادی دنیا سے ہٹا کر روحانی دنیا کی طرف لے جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اس کی دلچسپیوں سے اس قدر بے تعلق ہو جائے گویا کہ وہ خدا کا راہب بن گیا ہے۔ اس طرح ذکر اور نماز آدمی کو مادی آلائشوں سے پاک کرکے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے اوپر آخرت کو ترجیح دے سکے۔ فانی دنیا کو چھوڑ کر باقی رہنے والی دنیا میں اپنا دل لگائے۔
خدا کی راہ میں نفس کو کچلے بغیر آدمی کے اندر وہ سوز پیدا نہیں ہو سکتا جو دعوت حق کی جان ہے اور نہ اس کے بغیر کسی کو موعظہ حسنہ کی وہ زبان حاصل ہو سکتی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ داعی کی زندگی سراپا اپنے نظریات کا مجسمہ بن گئی ہو۔ اس کے منہ سے جو الفاظ نکلیں وہ محض الفاظ نہ ہوں بلکہ اس کی اپنی زندگی ان کے اندر کھینچ آئی ہو۔ دعوت حق کے کام کے لیے علمی قابلیت کی ڈگریاں درکار نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے ایسی زندگی کی ضرورت ہے جو اپنی ترجمان آپ ہو، جو بولنے سے پہلے بول رہی ہو اس کو ایسے دل کی ضرورت ہے جو اس غم میں گھل رہا ہو کہ لوگ اپنے رب کو بھول گئے ہیں۔ جو ساری فکروں کو چھوڑ کر اس فکر میں دیوانہ ہو جائے کہ کس طرح لوگوں کو جہنم کے راستے سے ہٹا کر جنت کے راستے کی طرف لگایا جائے اور آدمی کے اندر ان خصوصیات کو پیدا کرنے والا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ نماز ہے، ایسی نماز جس میں مشغول ہو کر بندہ اپنے آپ کو خدا سے قریب کرتا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ خدا سے جڑ جاتا ہے۔ یہ نماز داعی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ وہ نماز کو اپنی زندگی میں شامل کیے بغیر حق کا داعی بن سکتا ہے تو محض ایک غلط فہمی ہے اور جتنی جلد وہ اس غلط فہمی سے نکل آئے اچھا ہے۔
نماز کی اسی اہمیت کی بنا پر حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں تمام عمال کے نام ایک مکتوب
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues