Al-Risala · December 1977 · page 33

روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳

روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-

إِنَّ أَهَمَّ أُمُورِكُمْ عِنْدِیَ الصَّلوةَ تمہارے معاملات میں سب سے اہم چیز میرے مَنْ حَفِظَهَا وَ حَافَظَ عَلَيْهَا حَفِظَ نزدیک نماز ہے جو شخص نماز کی حفاظت کرے گا دِيْنَهُ وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَلِمَا سِوَاهَا اور اس پر قائم رہے گا وہ اپنے دین کو محفوظ رکھے گا اَضْیَعُ - (مالک) اور جو شخص نماز کو ضائع کر دے وہ دوسری چیزوں کو اور زیادہ ضائع کرنے والا ہو گا۔

تیسری چیز جہاد ہے۔ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے جس طرز زندگی کو خود اختیار کیا ہے اسی کی طرف دوسروں کو لانے کی کوشش کرے۔ دعوتِ حق اور جہاد دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک لفظ سے اس کی نوعیت کا اظہار ہوتا ہے اور دوسرے سے اس کی کیفیت کا ۔ یا ان دونوں کے فرق کو ہم اس طرح بھی بیان کر سکتے ہیں کہ دعوت اس کی ابتدا ہے اور جہاد اس کی انتہا۔ ایمان لانا دوسرے لفظوں میں ایک حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس حقیقت سے جب آدمی دوسرے حال کو آگاہ کرنا چاہے تو اسی کو جہاد کہتے ہیں۔ یہ جہاد ابتداً زبان سے شروع ہوتا ہے۔ مگر اپنے آخری درجے میں پہنچ کر داعی کو تلواروں کے سائے اور پھانسی کے تختے پر کھڑے ہو کر حقیقت کا اعلان کرنا ہوتا ہے ۔ جو ان تمام مراحل سے گزر کر اپنی ساری کوشش امر حق کے اعلان واظہار میں صرف کر دے، وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔

اس جہاد میں بظاہر دوسروں کے خلاف جدوجہد ہوتی ہے مگر حقیقتًا یہ خود اپنے ساتھ جد و جہد کرنا ہے جو شخص اپنے آپ سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہو وہی دوسروں سے لڑ سکتا ہے۔ جو اپنے آپ کو زیر کر سکے وہی دوسروں پر غالب آ سکتا ہے۔ داعی اور مجاہد بننے کے لیے سب سے پہلی ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی خود اپنی زندگی میں اس چیز کو قائم کر چکا ہو جس کو وہ دوسروں کی زندگی میں قائم کرنے کے لیے اٹھا ہے۔ وہ ان باتوں پر سب سے پہلے خود ایمان لائے جن کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہے ۔ وہ خود اس چیز کے لیے بیتاب ہو چکا ہو جس کی طلب وہ دوسروں کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جو اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہو جس کو وہ لفظوں کے ذریعہ دوسروں کو دکھانا چاہتا ہے۔ داعی کے سامنے ایک طرف اس کے مخاطب ہوتے ہیں دوسری طرف وہ دنیا ہوتی ہے جس کے حالات اسے لوگوں کو بتانے ہوتے ہیں، اس لیے وہ انتہائی بلندی پر کھڑا ہوتا ہے تا کہ وہ سامنے کی دنیا اور پیچھے کی دنیا دونوں کو دیکھ سکے ۔ اپنی بات پر بے پناہ یقین اور خدا کے اوپر بے پناہ اعتماد ، یہی دو چیزیں خدا کے لیے کوشش کرنے والوں کا سرمایہ ہیں۔ آپ حقیقی معنوں میں داعی اسی وقت بن سکتے ہیں جب آپ کا حال یہ ہو کہ آپ کسی غلط روش پر تنقید کریں تو درد کی شدت سے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں۔ آپ کی دعوتی تحریریں بازار سے خریدی ہوئی روشنائی سے نہ لکھی گئی ہوں بلکہ اپنے خون سے تیار کی گئی ہوں جس میں آپ نے خود اپنے کو نچوڑ دیا ہو۔ اسی طرح اگر آپ مقرر ہیں تو آپ کا دل یہ ہونا چاہیے کہ جب آپ اسٹیج پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page