Al-Risala · December 1977 · page 34

روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۴

تقریر کرنے سکے لیے کھڑے ہوں تو آپ کا دل بے قرار ہو جائے اور آپ اپنے رب سے عرض کریں کہ خدا یا ! جو کچھ تو آخرت میں ان کے سامنے کھولنے والا ہے اس کو میں دنیا میں ان کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں ۔ تو مجھے اس کی توفیق دے ۔ جو شخص اس مقام سے بول کے وہی دراصل داعی بن سکتا ہے اور جس کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو اس کو جاننا چاہیے کہ وہ ابھی داعی بننے کے قابل نہیں ہوا ہے ۔ اس کو دوسروں کی اصلاح کے لیے اٹھنے سے پہلے خود اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ لوگوں کو خدا کی طرف بلانا ، دنیا میں نظام عدل قائم کرنا ، شیطان اور طاغوت کے خلاف جنگ کرنا ، یہ جہاد فی سبیل اللہ کے میدان ہیں۔ مگر یہی جہاد فی سبیل اللہ کا مقصود و مطلوب نہیں ہے۔ جہاد اصل میں مومن کو مشکلات میں ڈال کر اس کا امتحان لینا ہے اور اس کو ایک ایسا موقع فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنی ارتقا کے لامحدود منازل طے کر سکے۔ جس طرح انسان کے مادی وجود کو باقی رکھنے اور اس کو نشوونما دینے کے لیے زمین و آسمان کی بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ ٹھیک اسی طرح انسان کے روحانی ارتقا کے لیے ایک وسیع میدان بلکہ پوری کائنات کی ضرورت ہے۔ نظام اسلامی کا قیام اسی پھیلے ہوئے پروگرام کا ایک جزو ہے جو سماجی زندگی کے ساتھ مومنانہ کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے جہاد کی تکمیل یہ نہیں ہے کہ آپ دنیا میں نظام حق قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں بلکہ جہاد کی تکمیل یہ ہے کہ آپ اپنی قوتوں کا آخری حصہ تک اس راہ میں صرف کر دیں۔ خدا کے یہاں جن لوگوں کا شمار انبیاء اور شہداء میں ہو گا ان میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جو ساری جدوجہد کے باوجود وقت کی سوسائٹی کو بدل دینے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے پیغام کو اتنی بڑی اکثریت نے قبول کر لیا کہ وہ سوسائٹی کا دین بن گیا ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ خدا کے نزدیک کامیاب لوگ ہیں۔ ان کے درمیان خدا کے یہاں کوئی تفریق نہیں کی جائے گی بلکہ وہ سب کے سب یکساں اعزاز واحترام کے مستحق ہوں گے۔ کیونکہ جدوجہد کے نتیجہ کا تعلق دوسروں سے ہے نہ کہ جدوجہد کرنے والوں سے۔ جب خادم نے اپنا کام پورا کر لیا تو بہر حال وہ اپنی خدمت کا صلہ پانے کا مستحق ہو گیا ۔ خواہ دوسرے لوگوں نے اس کی خدمت کو تسلیم کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس جدوجہد کا پروگرام کیا ہے ، اس کو جاننے کے لیے آپ کو دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں ، یہ واقعہ جو حقیقت آپ کے اوپر منکشف ہوئی ہے آپ کے ماحول کے بے شمار لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ بس یہی آپ کے پروگرام کو متعین کر دیتا ہے۔ اسلامی شعور حاصل ہونے کے بعد جب ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی امتحان کی زندگی ہے اور ہر شخص جنت یا جہنم کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے تو اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو آنے والے دن سے ہوشیار کریں۔ ہمارا جہاد یہ ہے کہ خدا کے عذاب سے دور بھاگنے کے لیے اپنی ساری کوشش صرف کر دیں۔

ہر روز جو سب سے بڑا واقعہ اس ملک میں پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں بسنے والے انسانوں میں سے ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مر جاتے ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ موت کے فرشتے کل کے لیے جن ایک لاکھ آدمیوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں ان میں ہمارے ملک کے باشندوں میں سے کس کس کا نام ہو۔ ہم میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page