روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵
سے ہر شخص کو موت آنی ہے مگر ہم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی اور جن لوگوں کے درمیان ہم زندگی گزار رہے ہیں ان کے متعلق بھی کچھ نہیں معلوم کہ ان میں سے کون کل اٹھا لیا جائے گا اور کون کل کے بعد ہمارا پیغام سننے کے لیے باقی رہے گا۔
یہ آنے والا وقت ہم میں سے ہر شخص کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے ہر زندہ انسان اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ کل اس کی موت آجائے اور اس کے بعد نہ اس کے لیے سننے کا موقع باقی رہے اور نہ ہمارے لیے سنانے کا۔ یہ صورت حال خود بتا رہی ہے کہ آپ کے کرنے کا کام کیا ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اس ملک کے ایک ایک شخص تک پہنچیں اور اس کو زندگی کے حقیقی مسئلے سے آگاہ کریں۔ اس ملک کی آبادی اگر چالیس کروڑ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو چالیس کروڑ کام کرنے ہیں۔ کیونکہ آج کا ہر انسان حقیقت سے غافل ہے، ہر آدمی اس بات کا محتاج ہے کہ اس کو حقیقت کا علم پہنچایا جائے ۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے ایک ہی کام ہوگا ۔ وہ یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے ۔ جب صورت حال یہ ہے تو انسانیت کی اس سے بڑی خدمت اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کو اس اہم ترین حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور خود اہل ایمان کی اس سے بڑی سعادت اور کیا ہے کہ وہ اپنی بہترین قوتوں اور صلاحیتوں کو اسی ایک کام میں لگا دیں۔ جب آدمی کے پاس زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے مگر جس کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔ فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا کم تر درجے کے کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کر سکتا۔
یہ خدا کی طرف بلانا اور آنے والے سخت دن سے ہوشیار کرنا وہ سب سے بڑا انقلابی پروگرام ہے جس سے اب تک انسان واقف ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑے کسی عملی پروگرام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے پروگرام جو دنیا میں اختیار کیے جاتے ہیں وہ اپنے الفاظ اور اپنے نعروں کے لحاظ سے بہت بڑے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب نہایت حقیر اور محدود ہیں۔ ان کا دائرہ انسانی زندگی میں تھوڑی تھوڑی دور جا کر ختم ہو جاتا ہے اس کے مقابلے میں یہ نظریہ انسان کے اندر آخری حد تک سرایت کرتا ہے۔ وہ فسادِ کبیر کے خلاف جہادِ عظیم ہے جو داعی کو سرتا پا مصروف بنا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ کام اپنی ابتدا میں ایک کام ہے مگر جب وہ عمل میں آتا ہے تو شاخ در شاخ پھیلتا ہوا ہزار کام بن جاتا ہے۔ جو لوگ کسی اقتدار کے خلاف جہاد کرنے اٹھتے ہیں ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب وہ ایک حکمراں خاندان کو قتل کر دیں یا چند سیاسی لیڈروں کو زیر کر کے ان سے حکومت کی کرسی چھین لیں؛ جب کہ یہ نظریہ ان تمام انسانوں کو فتح کرنا چاہتا ہے جو زمین کے اوپر پل پھر رہے ہوں۔ سماجی اصلاح کے مجاہدین چند ادارے اور چند ہسپتال بنوانے کے بعد مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا کام ہو گیا جب کہ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues