روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶
نظر یہ دلوں اور دماغوں کو بدل کرلے۔ کے انسان وجود میں لانا چاہتا ہے جس سے زیاوہ مشکل کوئی کام اس زمین کے اوپر نہیں ہے۔ معاشی اسکیمیں چند سال کی دنیوی زندگی کے لیے کچھ نشانے آدمی کے سامنے رکھ دیتی ہیں۔ جب کہ یہ نظریہ لا متناہی زندگی کی بے حساب کامرانیاں حاصل کرنے کے لیے آدمی کو متحرک کرتا ہے۔ ہر دوسرے کام کا ایک خاص میدان ہے، یہ میدان جہاں موجود نہ ہو وہاں اس کے کارکن بے سب ٹایا نظر آتے ہیں۔ مثلاً اشتراکیت ایسے ماحول میں اپنے آپ کو بے بس پاتی ہے جہاں مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔ آزادی کی تحریک کے لیے اس وقت کرنے کا کچھ کام نہیں رہتا جب بیرونی آقا ہٹ گئے ہوں اور ان کی جگہ ملکی آقاؤں نے لے لی ہو۔ مگر اسلام کا جہاد ایک وسیع اور ہمہ گیر جہاد ہے جس کے لیے ہر وقت کرنے کا کام ہے اور ہر جگہ اس کے لیے کام کا میدان موجود ہے۔
یہ دعوتی جدوجہد اور خدا کی راہ میں آخری حد تک ٹھہرنے کی اسی کوشش کا نام جہاد ہے جس کو حدیث میں "دین کی سب سے بلند چوٹی" کہا گیا ہے۔ جہاد اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ بندے کے لیے ایک ایسا میدان فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی تمام کوششوں کو خدا کی راہ میں لگا سکے. جہاد کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنی کوششوں کو آخری حد تک صرف کر ڈالے تاکہ خدا اپنی رحمجوں کو اس کے اوپر آخری حد تک نچھاور کرے جہاں تکلیفوں اور دشواریوں کے میدان میں اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی اکثر اپنی کوتاہیوں کے جواب میں دشواریوں کی ایک فہرست پیش کر دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دشواریاں وہ قیمتی مواقع ہیں جن کے خلاف جدوجہد کر کے آپ اپنے رب کو خوش کر سکتے ہیں۔ آپ جن ذاتی مسائل کی بنا پر اسلام کی طرف بڑھنے سے رک رہے ہیں، وہ دراصل آپ کے لیے ترقی کے زینے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں ہیں کہ آپ ان کو دیکھ کر رک جائیں ۔ وہ اس لیے ہیں تاکہ آپ انھیں پھاند کر آگے بڑھ جائیں۔ خدا کے نزدیک اس کا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی تمناؤں کو اس کے لیے دفن کر دے، جو اپنے آرام کو اس کی خاطر چھوڑ دے، جو اپنی مشکلات کو نظر انداز کر کے اس کی طرف چلا آئے۔ دنیا میں کسی شخص کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کچھ حاصل کرنے ۔ ۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا " سب سے افضل جہاد کون سا ہے" آپ نے فرمایا " وہ شخص جو اپنی بہترین سواری لے کر نکلا اور میدان جنگ میں اس کا گھوڑا مارا گیا اور دہ خود بھی شہید ہو گیا۔ گویا سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو بالکل لٹا ہوا اپنے رب کے پاس پہنچے کیونکہ اللہ تعالی اپنی رحمتوں کو اس کے اوپر انڈیل دے گا۔
محترم رفقاء! یہ اجتماع جس میں آپ اس وقت شریک ہورہے ہیں اس کی بہترین تعبیر میرے نزدیک یہ ہے کہ یہ آپ کی طرف سے تجدید عہد ہے۔ آپ نے جماعت میں شریک ہو کر پہلے دن اپنے رب سے جو معاہدہ کیا تھا، یہ اس معاہدہ پر آئندہ کام کرنے کا عزم ہے۔ تو آپ اپنے سیکڑوں رفقاء کے سامنے کر رہے ہیں اور جس پر خدا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues