روانہ کیا جس میں یہ درج تھا کہ :-
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
اور اس کی فرشتے گواہ ہیں۔ اگر پچھلی مدت میں آپ اپنے معاہدے کو پورا کرنے والے ثابت ہوئے ہوں، اگر آپ کے دن اور آپ کی راتیں اس بات کی شہادت دیتی ہوں کہ آپ اپنے معاہدے میں پورے اترے ہیں تو میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس تجدیدِ عہد کا موقع ملنا آپ کے رب کے طرف سے خوش خبری ہے۔ یہ آپ کی کوششوں کے قبول کیے جانے کا نشان ہے۔ اور اگر آپ اپنے معاہدے کو پورا کرنے میں کوتاہ ثابت ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں آپ کو یہاں آنے کی توفیق دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات کا اور موقع دیا گیا ہے کہ آپ اپنے معاہدے کی اہمیت کو سمجھیں اور جو کچھ پہلے نہیں کر سکے اس کو آئندہ کرنے کا عزم لے کر یہاں سے واپس جائیں۔
آپ جانتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اپنی موجودہ زندگی ہی میں کر سکتے ہیں اور اس زندگی کی مدت بہت کم ہے۔ کتنے لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آج ہمیں دیکھ رہے ہیں وقت آئے گا کہ ہم ان کو دیکھنے کے لیے اس دنیا میں موجود نہ ہوں گے۔ ہم اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ہوں گے۔ ہماری موجودہ زندگی وہ پہلا اور آخری لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی موقع انسان کو ملا تھا اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی موقع انسان کو ملے گا۔ ہم ایک ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جس کا ایک لازمی نتیجہ ہمارے سامنے آنے والا ہے اور بہت جلد ہم ایک ایک ایسے نتیجے سے دوچار ہوں گے جس کے بعد پھر کسی تیاری کا موقع ہم کو نہیں ملے گا۔ زندگی کا ہر لمحہ جو آپ صرف کر رہے ہیں، خوب سمجھ لیجیے کہ آخری طور پر صرف کر رہے ہیں، کیونکہ وہ پھر واپس آنے والا نہیں ہے۔
خدا کا دین ہم سے ہماری زندگی مانگ رہا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنا پورا وجود اس کے سپرد کردیں۔ ہمارے دن اور ہماری راتیں اس کے لیے وقف ہو جائیں اپنی طاقت کا آخری حصہ تک ہم اس کی راہ میں لگا دیں۔ جو لوگ اس سرفروشانہ جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور جن کے اندر اپنے آپ کو قربان کر کے دین کی خدمت کرنے کا حوصلہ ہو، وہی دراصل دین کی خدمت کریں گے اور جن کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو وہ صرف اپنی خدمت کر سکتے ہیں۔ خدا کے دین کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔ (ماہنامہ زندگی رام پور رجب ۱۳۸۰ھ) نوٹ: جماعت اسلامی کے کل ہند اجتماع بمقام دہلی میں کی گئی ایک تقریر ۱۲ نومبر ۱۹۶۰ء ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے، ہمارے بزرگوں نے تم کو راندہ درگاہ کر دیا ہے“ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو اس قسم کی باتیں سنا پڑتی تھیں۔ آج اگر کوئی شخص بے آمیز سچائی لے کر اٹھے تو اس کو بھی اسی قسم کے استقبال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues