Al-Risala · December 1977 · page 38

تمثیل ہے نہ کہ واقعہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸

تمثیل ہے نہ کہ واقعہ

حدیثیں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگوئیں ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک گفتگو کسی روایت میں اپنی پوری شکل میں نقل فہمیں ہو پاتی۔ اس سے ابہام پیدا ہو جاتا ہے اور اصل مدعا واضح نہیں ہوتا۔ مگر اسی گفتگو کی دوسری روایتوں کو بھی سامنے رکھ لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے اور مدعا کو سمجھنے میں کوئی تردّد باقی نہیں رہتا۔

مثال کے طور پر ایک مشہور روایت ہے :

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم استوصوا بالنساء خیرا فان المرأۃ خلقت من ضلع ( بخاری ومسلم)

عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کی وصیت قبول کرو۔ کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں :

اِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْع (بخاری)

عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں

حدیث کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے اس ٹیڑھی ہڈی سے پیدا کیا ہے جس کو پسلی کہا جاتا ہے۔ مگر یہ غلط نہی اس روایت میں اختصار الفاظ کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے۔ یہی روایت دوسری جگہ زیادہ مفصل صورت میں آئی ہے اور وہاں یہ اشکال باقی نہیں رہتا:

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان المرأۃ کالضلع ان ذھبت تقیمھا كسر تھا وان ترکتھا استمتعت بھا علی عوج (بخاری ومسلم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے ۔ اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو تو ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھاؤ گے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "پسلی" کا لفظ نسوانی فطرت کو بتانے کے لئے بطور تمثیل استعمال کیا تھا۔ مگر بعض روایات میں اختصار الفاظ کی وجہ سے اس کو حقیقی معنوں میں لے لیا گیا اور غیر ضروری سوالات پیدا ہو گئے ۔ حقیقت پسندی غزوہ احد (۶۲۵ء) ہجرت کے تیسرے سال پیش آیا۔ یہ مقابلہ مدینہ کے شمال میں احد پہاڑ کے دامن میں ہوا اس لئے اس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ اس مقابلہ میں اولاً مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ مگر اس کے بعد ایک غلطی سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی حتیٰ کہ خود پیغمبر بھی زخمی ہوگئے۔ جنگ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مقام پر تھے کہ ابوسفیان نے قریب آکر آواز دی:

فی القوم محمد کیا تم لوگوں میں محمد ہیں آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا اس کو جواب نہ دو۔ پھر اس نے پوچھا، کیا تم میں ابوبکر ہیں۔ اس کے جواب میں بھی آپ کے ساتھی خاموش رہے۔ پھر اس نے پوچھا کیا تم میں عمر بن الخطاب ہیں۔ اس کا بھی کچھ جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد وہ بولا: معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب قتل ہو گئے ۔ اب حضرت عمر سے چپ نہ رہا گیا، وہ بولے:

اے دشمن خدا! یہ سب زندہ ہیں اور تو رسوا ہوگا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page