عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
ملت کا مسئلہ پہلے فرد کی سطح پر حل کرنا پڑے گا۔
ایک شخص بائی سکل سے سفر کر رہا تھا کہ اسی کا بریک جام ہو گیا۔ وہ اتر کر سائیکل ساز کے پاس گیا اور اس سے مرمت کرنے کے لئے کہا۔ مسافر کا خیال تھا کہ جس مقام پر بریک جام ہوا ہے، سائیکل ساز اسی مقام پر ہاتھ لگا کر اس کو درست کرے گا۔ مگر اس نے ہتھوڑا لیا اور سائیکل میں بالکل دوسرے مقام پر ٹھونکنا شروع کر دیا۔ مسافر بھی اپنی حیرت کا اظہار بھی نہیں کر پایا تھا کہ مستری نے کہا بس ٹھیک ہے، لے جائیے۔ ‘ اگلے لمحہ سائیکل اپنے مسافر کو لئے ہوئے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔
اس پر اصلاح ملت کے معاملہ کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔
مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے، ان میں کوئی تعمیری سیاست نہیں ہے، وہ متحارب ٹولیوں میں بٹ گئے ہیں۔ مسائل کے بارے میں ان کے درمیان کوئی متفقہ پالیسی نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مسلمانوں کے یہ حالات جب ایک دردمند شخص کے سامنے آتے ہیں تو وہ فوراً اجتماع اور کنونشن کی اصطلاحات میں سوچنے لگتا ہے۔ اس کو کام یہ نظر آتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو جمع کر کے اتحاد کی قرار دادیں پاس کی جائیں۔ اور اسلام کے اوپر ولو لہ انگیز تقریریں کی جائیں۔ مگر اس قسم کی سوچ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ جہاں پیدا ہوا ہے، وہیں ہم اس کو حل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کے حل کا راز کہیں اور ہوتا ہے۔ پھل حاصل کرنے کے لئے جو شخص جڑ سے چلے، وہی پھل کا مالک بنتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص پھل سے چلنا چاہے، اس کے حصہ میں نہ پھل آئے گا اور نہ جڑ۔
مسلمانوں کے مسئلہ کے حل کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بدلیں۔ ہم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہوں۔ مسئلہ کی جڑ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ سارے مسلمانوں کو " اتحاد کانفرنس" میں جمع کرکے اتحاد ملت کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا آغاز اپنے قریبی دائرہ میں سنجیدہ اور خاموش عمل سے ہوگا۔ مسئلہ اگر چہ ملت کی سطح پر پیدا ہوا ہے مگر اس کو فرد کی سطح پر حل کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملت کی سطح پر مسائل کے حل کے امکانات پیدا ہوں۔
ہماری راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ باہر کی طاقت نہیں ہے۔ بلکہ خود ہمارے رہنماؤں کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف انھیں کاموں کے لئے متحرک ہوتے ہیں جن کے اندر "نیوز ویلیو" ہو جس میں ان کی ذات کے لئے نماياں ہونے کے مواقع ہوں ۔ اس کمزوری کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی رہنما خاموش تعمیری کام میں اپنے کو لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ خود تو شہرت اور عزت کی فضاؤں میں پرواز کرتا رہتا ہے اور دوسروں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ تعمیری کام کریں۔ اس طرح کبھی کوئی نتیجہ خیز کام نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کی تمام تقریریں محض لیڈری کی نمائش ہیں نہ کہ ملت کی تعمیر واصلاح ۔
اعلان : الرساله ماه جنوری ۔ فروری ۱۹۷۷ء کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں کے پاس مذکورہ شمارے ہوں اور وہ الگ کرنا چاہیں، وہ براہ کرم مطلع فرمائیں۔ منیجر الرساله
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues