Al-Risala · October 1977 · page 48

سیاست جب نشہ بن جائے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸

سیاست جب نشہ بن جائے

مکھن بنانے والی کوئی کمپنی اگر اپنے مکھن کی پیکنگ پر لکھ دے: ”یہ مکھن صحت کے لئے مضر ہے“ تو اس کا مکھن کوئی بھی شخص نہیں خریدے گا۔ ایسی کمپنی چند ہی روز میں دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر جدید قوانین کے تحت سگریٹ کا ہر پیکٹ جو سگریٹ ساز کمپنی سے تیار ہو کر بازار میں آتا ہے، اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے: CIGARETTE SMOKING IS INJURIOUS TO HEALTH (سگریٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے) مگر اس سے سگریٹ کی خریداری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سگریٹ پینے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سگریٹ سازی کا کاروبار آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکھن ایک مفید غذا ہے۔ اس کو آدمی صحت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے کھاتا ہے۔ اس لئے جب کسی مکھن کی یہ حیثیت مشتبہ ہو جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ دے گا۔ مگر سگریٹ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے ساتھ غذائی افادیت کا کوئی تصور وابستہ نہیں۔ سگریٹ صرف نشہ حاصل کرنے کے لئے پیا جاتا ہے اور نشہ کا فائدہ سگریٹ میں اس وقت بھی پوری طرح موجود ہوتا ہے جب کہ صحت کے اعتبار سے اس کا مضر ہونا ثابت ہو گیا ہو۔ جب اصل مقصد حاصل ہو رہا ہو تو کوئی شخص کیوں اسے چھوڑے۔ یہ معاملہ کھانے اور پینے کی چیزوں تک محدود نہیں۔ یہ کبھی دین اور مذہب تک پہنچ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کچھ لوگوں کو ”سیاست“ کا چسکا لگ جائے تو خواہ کتنے ہی یقینی دلائل سے اس کا بے حقیقت ہونا ثابت کر دیا جائے بہرحال لوگ اس سے چمٹے رہیں گے۔ وہ کسی بھی طرح اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ دلائل کی کوئی بھی مقدار سیاست سے نشہ کی کیفیت چھین نہیں سکتی۔ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ سیاست تمام نشہ آور چیزوں میں سب سے زیادہ نشہ کی چیز ہے۔ سگریٹ اور بھنگ کا نشہ اتر سکتا ہے۔ مگر سیاست کا نشہ کبھی آدمی سے نہیں اترتا۔ آپ دلائل کا انبار جمع کر دیجئے، تجربات اس کے بے فائدہ ہونے کا عملی ثبوت دیتے چلے جائیں۔ مگر جن لوگوں کو سیاست کا نشہ لگ گیا ہے، تخیلات کی دنیا میں بدستور وہ اپنا سیاسی رو مان جاری رکھیں گے ۔ موت کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو ان کے اور سیاست کے درمیان تفریق کر سکے، اور اگر اتفاق سے سیاست میں کسی نے نئی ترقی کا راز دریافت کر لیا ہو یا کسی کو ایسی قرآنی ڈکشنری مل گئی ہو جس میں دین کے معنی سیاست لکھے ہوئے ہوں تو ایسے لوگوں کو سیاسی مشغلہ سے ہٹانا اتنا مشکل ہے کہ انسانی زبان میں شاید ابھی وہ الفاظ ہی وضع نہیں ہوئے ہیں جس میں اس کی دشواریوں کو بیان کیا جا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page