سیاست جب نشہ بن جائے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹
نادانی کے اقدامات صرف غیر اسلام کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں پاکستان تحریک میں اسلام کا نعرہ کثرت سے استعمال کیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے پاکستان کے اسلام پسند گروہ کو موقع دیا کہ وہ مملکت خدا داد میں اپنے لئے قیادت کا ایک افق میدان پاسکیں۔ انھوں نے نظام اسلامی کے مطالبہ کی مہم شروع کر دی ۔ ” پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے، اس لئے یہاں اسلام کی حکومت ہونی چاہئے تاہم حقیقی صورت حال کے اعتبار سے اس نعرہ کی قیمت اس سے زیادہ نہیں تھی جتنی ہندوستان میں مسلم قائدین کے ایک گروہ کی یہ چیخ پکار کہ : " ہندوستان سیکولرزم کے نام پر آزاد کرایا گیا ہے اس لئے یہاں سیکولر راج ہونا چاہئے ۔
پاکستان اگر چہ اسلام کے نام پر بنا، مگر خود اسلام کا لفظ پاکستان میں کسی ایک چیز کا نام نہ تھا۔ اس سلسلے میں وہاں دو بڑے گروہ تھے۔ ایک انتہا پسند مسلمان ۔ دوسرے للبرل مسلمان ۔ عددی اعتبار سے لبرل مسلمان اکثریت میں تھے۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء سے لے کر لیاقت علی خاں کے قتل (۱۹۵۱) اور پھر محمد ایوب خاں کے زوال (۱۹۶۹) تک مختلف انقلابات کے باوجود عملاً پاکستان میں انھیں لبرل مسلمانوں کو غلبہ حاصل رہا۔
تاہم برل مسلمانوں کا غلبہ پاکستان میں اسلام پسند گروہ کی نفی کے ہم معنی نہیں تھا۔ وزارت سازی کے باہر زندگی کے تمام مواقع ان کے لئے پوری طرح کھلے ہوئے تھے ۔ تحقیق و تعمیر اور دعوت و اشاعت کے تمام میدانوں میں وہ بے روک ٹوک اپنا کام جاری رکھ سکتے تھے ۔ حتی کہ خود حکومت کے تعاون سے ایک ایسا اسلامی مرکز قائم کر سکتے تھے جو نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں دعوتِ حق اور تعمیرِ افکار کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیتا۔ اسلامی گروہ کے لئے حقیقت پسندانہ طریقِ کار یہ تھا کہ وہ لبرل مسلمانوں سے سیاسی تصادم نہ کرتے ہوئے دوسرے ممکن مواقع کو اپنے استعمال میں لاتے ۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستان میں اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر سکتے تھے کہ بالآخر وہ جمہوری طریقہ کے مطابق وہاں غالب آجاتے ۔ مگر انھوں نے قبل از وقت سیاسی ٹکراؤ میں بہترین ۳۰ سال ضائع کر دیئے ۔ یہاں تک کہ مسئلہ پہلے سے زیادہ گمبھیر ہو گیا ۔
پچھلے برسوں میں جب کہ پاکستان میں انتہا پسند مسلمانوں اور لبرل مسلمانوں کے درمیان اقتدار کی کش مکش جاری تھی ٹھیک اسی وقت وہاں ایک اور مسئلہ پرورش پا رہا تھا۔ یہ مہاجرین اور غیر مہاجرین کا مسئلہ تھا۔ دہلی ، یو۔ پی ، بہار وغیرہ کے مسلمان جو پاکستان تحریک میں بہت زیادہ پیش پیش تھے ، ہجرت کر کے پاکستان گئے ۔ یہ لوگ اس احساس کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے کہ " پاکستان ہم نے بنایا ہے " قدرتی طور پر ان کی نفسیات یہ تھی کہ پاکستان میں زبان اور تہذیب سے لے کر سیاسی اور اقتصادی امور تک ہر جگہ ان کو غلبہ ملنا چاہئے۔ ۔ مہاجرین کی یہ ذہنیت غیر مہاجرین کے لئے ناقابلِ برداشت تھی ۔ دونوں میں ہر محاذ پر کش مکش شروع ہوئی جو دن بدن بڑھتی چلی گئی ۔
کش مکش جب سماجی سطح پر اپنا حل نہ پاسکی تو اس کے بعد اس نے سیاسی رنگ اختیار کرنا شروع کیا۔ غیر مہاجرین کے پاس اپنے موقف کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے اگر علاقائی نعرے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues