Al-Risala · October 1977 · page 50

سیاست جب نشہ بن جائے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰

تھے تو مہاجرین کے نہایت آسانی کے ساتھ آفاقی اسلام میں تعصب کے نتیجہ میں بالکل برباد ہو چکا ہے۔ اب تقریباً یقینی اپنے موافق نعرے تلاش کر لئے۔ غیر مہاجرین نے سوشلزم دوسرے نیشنلزم کے سایہ میں پناہ لی۔ دوسری طرف مہاجرین اسلام کے علم بردار بن کر کھڑے ہو گئے ۔ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے زوال (۱۹۷۷) کے بعد یہ پولرائزیشن اپنے آخری نقطہ پر پہنچ چکا ہے۔ اب پاکستان کی سیاست مہاجرین اور غیر مہاجرین کی سیاست ہے نہ کہ حقیقتاً اسلام اور غیر اسلام کی سیاست ۔ اس طرح پاکستان کی سیاسی لڑائی، اسلام پسند طبقہ کی مسلسل نادانیوں کے نتیجہ میں ، اب شدید تر مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ جو تقسیم پہلے انتہا پسند مسلمان اور لبرل مسلمان کے نام سے تھی، اب اس نے مہاجر اور غیر مہاجر کی تقسیم کی صورت اختیار کرلی ہے۔ دوسرے لفظوں میں نظریاتی اختلاف کے ساتھ نسلی اور اقتصادی عصبیتیں بھی شامل ہوگئی ہیں۔ بدقسمتی سے اب بھی دوسرا گروہ (غیر مہاجرین) ہے کہ پاکستان میں یا تو الیکشن نہیں ہوگا اور فوجی افسران بدستور اقتدار پر قابض رہیں گے۔ اور اگر کبھی الیکشن ہوا تو لازماً بھٹو پارٹی بر سر اقتدار آئے گی۔ خواہ اس پر بد عنوانی اور غداری کا کتنا ہی الزام لگایا جائے۔ حتیٰ کہ اگر مسٹر بھٹو کو قتل کر دیا جائے جب بھی عملاً جو فرق ہوگا وہ صرف یہ کہ کوئی ”بے نظیر“، یا غیر بے نظیر جو مسٹر بھٹو (بالفاظ دیگر اینٹی مہاجر تحریک) کی علامت بن کر ابھرے گا ، پاکستان کی اکثریت کا ووٹ اس کے حصہ میں جائے گا۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ علاقہ ہو سکتا ہے جس کی سرحدیں افغانستان سے ملی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان میں دوبارہ جمہوری حالات پیدا ہوئے تو یہ علاقہ خان عبدالولی خاں کی قیادت میں غالباً وہی راستہ اختیار کرے گا جو اس سے پہلے شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں سابق مشرقی پاکستان نے اختیار کیا تھا۔

اکثریت میں ہیں۔ لیاقت علی خاں (۱۹۵۱ء - ۱۸۹۵ء) اور محمد ایوب خاں (پم ۱۹۰۷ء - ۱۹۷۷ء) کے زمانہ میں اگر کسی درجہ میں اسلام کے نفاذ کا امکان تھا تو اب وہ ضد اور آہ اسلام کے وہ علم بردار جو اپنی بے دانشی کے نتیجہ میں صرف غیر اسلام کے لئے راہ ہموار کرنے کا سبب بن جائیں۔ سرحد پار سے آنے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ایک خاندان کے یہاں دوسرے فرقہ کا ایک آدمی ملازم تھا۔ اس نے چوری کی۔ نوجوان صاحبزادے جوش میں اس کو مارنے کے لئے دوڑے۔ باپ نے منع کیا۔ ”تم چوری کے لئے اس کو مارو گے “ باپ نے کہا ” اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ ، فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ ، کھڑا ہو جائے گا۔ “ اب گھر کے لوگ مارنے سے رک گئے اور مسئلہ کو حکمت کے ساتھ حل کیا۔ ” حکمت عملی“ کا یہ راز جو ایک معمولی آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں پا لیتا ہے ، اس کو پاکستان کے رہنما اسلامی تحریک کے معاملہ میں نہ جان سکے۔ وہ صورت حال کے تمام پہلوؤں کا اندازہ کئے بغیر بار بار ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ اصل مقصد ( اسلامی نظام کا قیام ) تو حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ ہنگامہ کے نتیجہ میں کچھ اور شدید تر مسئلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئی نئی پیچیدگیاں ابھر کر راستہ کی مشکلات کو کچھ اور زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔ مجیب ازم (بنگالیت) بھٹو ازم (پاکستانی نیشنلزم) ولی ازم (سرحدی علاقائیت) وغیرہ سب اسی قسم کے نادان اقدامات کے پیدا شدہ نتائج ہیں۔ ” چوری “ ختم نہیں ہوتی۔ البتہ ” فرقہ وارانہ فسادات “ نئے نئے عنوان سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کیسی عجیب ہے یہ سیاست اور کیسے عجیب ہیں یہ خادمانِ اسلام ۔ اور کچھ نہیں ہو سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page