سیاست جب نشہ بن جائے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
ہے کہ موجودہ فوجیوں حکمران مسٹر بھٹو کی مقبولیت سے بے حد خائف ہیں۔ وہ مارشل اصغر خاں کو آگے بڑھارہے ہیں تاکہ اگر الیکشن کرانا پڑے تو مسٹر بھٹو کے بجائے مارشل اصغر خاں کو اوپر لایا جاسکے جو اپنی کمتر صلاحیت کی بنا پر فوجی کے لئے نسبتاً کم درجہ کا خطرہ بن سکتے ہیں۔ جہاں تک نو جماعتوں کے متحدہ اسلامی محاذ کا سوال ہے وہ اپنے آپ ختم ہورہا ہے کیونکہ اس اتحاد کی بنیاد محض منفی جذبات پر تھی اور منفی بنیادوں پر قائم ہونے والا اتحاد دیر تک باقی نہیں رہتا۔
مذکورہ بالا تجزیہ سے اگر پورا اتفاق نہ کیا جائے، جب بھی یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان میں جو سیاسی مسئلہ ہے وہ حقیقتاً اسلام بببمقابلہ ایوب یا اسلام مقابلہ بھٹو نہیں ہے۔ بلکہ اسلام مقابلہ لبرلزم ہے اور اسلام کا یہ حریف اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتا ہے جب کہ ایوب یا بھٹو کو ختم کر دیا گیا ہو۔
مسٹر بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے پاکستان کو اور ہمارے عوامی حکمراں !
ROYAL FARE FOR RICKSHAW-PULLER KATHMANDU, Nov 10.-King Birendra and Queen Aishwaryä rode a cycle rickshaw through the border town of Birgunj, in eastern Nepal, says Samachar. An English daily, Mother- land, yesterday reported that as the tired rickshaw-puller was calling it a day after paltry earnings, he found a young couple briskly walking across the road and boarding his rickshaw. The passengers wanted to see the town and the rickshaw- puller was too pleased to show the "tourists" around. He ex- plained the various landmarks to them and talked about his hopes to earn a lot of money. After half-an-hour's ride the passengers got down and the rickshaw-puller stared in dis- belief when he was paid Rs 2,000 as fare. The Motherland reported that the King often travelled incognito to study the prob- lems of the poor. بیر گنج ، نیپال کا ایک قصبہ ہے جو ریاست کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال کے مہاراجہ اور مہارانی یہاں حفاظتی عملہ یا افسروں کے غول کے بغیر تنہا گھومتے رہے۔ ان کی سواری ایک معمولی سائیکل رکشا تھا۔ غریب رکشے والا دن بھر کا تھکا ہوا اپنی معمولی کمائی پر افسردہ چلا جا رہا تھا بہت بڑی قیمت دینی پڑی ہے۔ مگر اس کے باوجود اصل صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ فوج بالفرض اپنی بیرکوں میں واپس چلی جائے اور دوبارہ پاکستان میں جمہوری طرز پر حکومت بنے، جب بھی عملاً جو فرق ہوگا وہ صرف یہ کہ لبرل اسلام کو ماننے والی اکثریت پہلے اگر ایوب اور بھٹو کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوئی تھی تو اب وہ کسی "مارشل اصغر خاں" یا کسی "عبد الولی خاں" کو کو اپنی نمائندگی کے لئے پالے گی۔ جہاں تک اسلامی قانون کے علم برداروں کا تعلق ہے، ان کا بیلٹ بکس بدستور خالی رہے گا۔
کہ ایک جوڑے نے اس کو روکا، جو سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا اور اس پر سوار ہو گئے۔
دونوں سواروں نے شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور رکشے والا ان ”سیاحوں‘‘ کو خوشی خوشی قصبہ کی سیر کراتا رہا۔ اور مختلف مقامات کے بارے میں ان کو بتاتا رہا۔ آدھ گھنٹہ کی سواری کے بعد دونوں مسافر رکشے سے اتر گئے۔ رکشے والے کو اس وقت سخت حیرانی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دونوں مسافروں نے اسکو کرایہ کے طور پر دو ہزار روپے دیے ہیں۔ مہاراجہ نیپال کے لئے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ وہ اکثر اسی طرح بھیس بدل کر ریاست کے مختلف مقامات پر جاتے ہیں تاکہ غریب عوام کے مسائل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues