Al-Risala · April 1977 · page 55

A CONCORDANCE

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵

کہا جا سکتا ہے ، مگر دودھ بڑی مقدار میں باہر سے آتا ہے ۔ یہاں کا موسم ایسا ہے کہ گھر گھر ریشم کا کیڑا پالا جا سکتا ہے اور اس سے کافی نفع حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت نے حال میں اس سلسلے میں شہتوت کے باغات لگائے ہیں اور کیڑے فراہم کرنے کی سہولت دی ہے۔ گھر کے اندر معمولی انتظام سے کیڑے اور شہتوت کے پتے رکھ کر یہ کام کیا جاسکتا ہے مگر بہت کم کشمیری ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ یہاں کی تجارتوں میں زیادہ تر روایتی تجارتیں ہی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ مثلاً شال ، قالین ، آرائشی سامان وغیرہ ۔ مگر بڑے بڑے کاروبار، ایجنسیاں اور جدید تجارتیں عام طور پر دوسروں کے ہاتھ میں ہیں ۔

یہاں کے مسلمان، دوسرے علاقہ کے مسلمانوں کی طرح ، نعروں اور تقریروں کی سیاست میں " شیر کشمیر " بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مدفون بزرگوں کی کرامتوں کا حال یہ ہے کہ آج بھی وہ حیرت انگیز حد تک عالم اسباب پر حکمرانی کر رہے قریب میں ہونے والا ہے۔

کشمیر کے تین ہفتہ قیام میں کثرت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ غیر رسمی قسم کے اجتماعات تقریباً روزانہ ہی جاری رہے۔ باقاعدہ اجتماعات جن میں خطاب کا موقع ملا، وہ حسب ذیل تھے: ۳۰ ستمبر کشمیر یونیورسٹی ہاسٹل میں ایم۔ اے اور ریسرچ کے طلبہ، موضوع ”مذہب اور سائنس“ ۲ اکتوبر اسلامک اسٹڈی سرکل کے سالانہ اجلاس میں ، ”احیائے اسلامی کے جدید امکانات“ ۳ اکتوبر اسلامک اسٹڈی سرکل کے سالانہ اجلاس میں ، ”اسوہ رسول“ ۴ اکتوبر گورنمنٹ ڈگری کالج، سوپور۔

RELIGION AND SCIENCE:

A CONCORDANCE

۴ اکتوبر صوفی اسٹور سوپور کے مکان پر ”سیرت سے کیا سبق ملتا ہے “۔

ہیں مگر انہیں مسلمانوں کو حقیقی عملی زندگی میں دیکھیئے تو وہ خود اپنے اکثریتی علاقہ میں ہر اعتبار سے دوسرے درجہ کی قوم نظر آئیں گے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تاریخ کو دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ جہاں وہ غالب حیثیت میں ہیں وہاں بے معنی سیاست بازی، اور جہاں غالب حیثیت میں نہیں ہیں وہاں بے معنی فریاد و احتجاج۔ کشمیر کے مسلمان دونوں حالتوں کے درمیان ہیں اس لئے وہاں کسی صحت مند اسلامی تحریک کے مواقع دوسرے مقامات کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پورے برصغیر میں کشمیر موزوں ترین مقام ہے جہاں سے کسی مؤثر دینی کام کا آغاز کیا جا سکے ۔ اگر چہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہاں کسی ایسے عمل کا آغاز ہو چکا ہے یا مستقبل ۵ اکتوبر مسجد نور باغ بارہ مولہ ، درس حدیث ۔ ۶ اکتوبر کشمیر یونیورسٹی سری نگر، مذہب اور سائنس۔ ۷ اکتوبر شعبہ تعلیمات کشمیر، یونیورسٹی ، تعلیم اور اخلاقیات۔ ۷ اکتوبر لالہ رخ ہال ، سری نگر، اسلام اور جدید تحقیقات ۔ ۸ اکتوبر اسلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس، سری نگر، " اسلام اور عصر جدید "

۹ اکتوبر بارہ مولہ (جامع مسجد ) " اسلام کا پیغام سیرت کی روشنی میں “ کشمیر کے مختلف مقامات سے تقاضے جاری تھے۔

لوگوں کا اصرار تھا کہ میں مزید قیام کروں اور مختلف مقامات کا سفر کر کے وہاں اجتماعات کو خطاب کروں ۔ مگر مزید ٹھیرنا میرے لئے ممکن نہ تھا ۔ ۲۱ اکتوبر کو میں دہلی واپس آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page