A CONCORDANCE
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
آزادی سے قبل اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر ریاستوں کی اندرونی خود مختاری کے خلاف تھے۔ اور کانگریس اور مسلم لیگ کے لیڈروں کے درمیان ابتداء ایک بڑا اختلافی نکتہ یہی تھا جو بالآخر دونوں کے درمیان تفریق کا سبب بنا تاہم آزادی کے بعد حالات کے دباؤ نے ان کو اس معاملہ میں نرم ہونے پر مجبور کر دیا۔ مرکز ۔ ریاست تعلقات کے موجودہ ڈھانچے میں ملک کی ایک ریاست کو اندرونی طور پر کافی اختیارات دیئے گئے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے عوام کی ترقی کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہے۔ جموں وکشمیر کو اس سلسلہ میں مزید خصوصیت حاصل ہے کیونکہ دستور کی دفعہ ۳۷۳ نے اس سرحدی ریاست کو خصوصی درجہ عطا کیا ہے جو کسی دوسری ریاست کو حاصل نہیں ہے۔ 4 نومبر ۱۹۷۷ء کو جموں وکشمیر کی حکومت نے جو آرڈیننس جاری کیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے دہلی کے ایک اخبار نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے: یہ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ کشمیر کو دستور ہند کی دفعہ ۳۷۳ کے تحت جو خصوصی درجہ حاصل ہے، اس کی وجہ سے ایسا ہو کہ جو چیز دوسری ریاستوں میں بے ضابطہ ہے، وہ یہاں ضابطہ کے مطابق قرار پائے۔
حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کی حکومت دوسری ریاستوں کی حکومتوں سے کہیں زیادہ اس حیثیت میں ہے کہ وہ اپنے عوام کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کر سکے۔ اسی بنا پر ہم نے پندرہ سال پہلے کشمیری دوستوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ "حقیقت پسندانہ سیاست" کا طریقہ اختیار کریں۔ مگر اس وقت کشمیر سیاسی جوش و خروش کا طوفان ڈل جھیل کی تفریحی کشتی "شکارا" میں بیٹھے ہوئے۔
"یہاں ہم کو خصوصی درجہ کا لطف حاصل ہے"
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues