Al-Risala · January 1977 · page 5

خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵

صحافت : ایک امکان جس سے ابھی تک ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا غزوہ خندق (۴۲۶) کے موقع پر جب ابوسفیان کی سرداری میں مشرکین کی 10 ہزار فوج مدینہ کے قریب پہنچی اور وہاں دیکھا کہ شہر کے گرد تقریباً چھ کلو میٹر لمبی خندق کھدی ہوئی ہے جس کی گہرائی تقریباً ڈھائی میٹر اور چوڑائی تقریباً تین میٹر ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان کی زبان سے نکلا:

واللہ ان هذا المكيدۃ ما كانت (العرب تكيدھا خدا کی قسم یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس کو عربوں نے اب تک نہیں کیا تھا۔

اسلام کی ابتدائی ہزار سالہ تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمان جب زندہ تھے تو وہ نئی نئی تدابیر اختیار کرنے میں ساری دنیا سے آگے تھے: اور جب ان کو زوال ہوا تو یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ طریقے جو سو برس پہلے دریافت ہو کر دنیا میں رائج ہو چکے ، مسلمان آج بھی ان کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔

محر ومیوں کی اسی فہرست میں ایک چیز یہ ہے جس کو صحافت کہتے ہیں۔ بظاہر ہمارے یہاں ہزاروں کی تعداد میں اخبار نکلتے ہیں مگر یہ سب شخصیتوں یا اداروں کے”بامین“ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی حقیقی معنوں میں اخبار نہیں کہا جا سکتا۔ جدید صحافت اللہ کی ایک عجیب نعمت ہے ۔ ماضی میں اس کی ایک ہلکی سی مثال شاعرانہ قصائد میں پائی جاتی ہے۔ ایک معیاری قصیدہ میں مناظرِفطرت، رومان ، ادب، رجز، سماجی اور نفسیاتی اشارے غرض ہر چیز ہوتی ہے۔ ہر ذوق کا آدمی اس میں اپنی دل چسپی کا سامان پاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں قصائد سب سے زیادہ لوگوں میں پھیلتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں صحافت اس کی زیادہ ترقی یافتہ علمی شکل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا صحیفہ وجود میں لایا جائے، جو اپنے متنوع مضامین اور اپنے غیر جانب دارانہ انداز کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پڑھا جائے ۔ اس طرح ایک کثیر المطالعہ صحیفہ وجود میں لانے کے بعد اپنی بات کو اس کے بین السطور میں شامل کر دیا جائے ۔ جدید صحافت مکمل طور پر ایک تبلیغ ہے مگر وہ مکمل طور عرب جاہلیت میں شعر کی حیثیت تقریباً وہی تھی جو موجودہ زمانے میں اخبار کی ہے۔ موزوں نے اس زمانے میں عام طور پر پسند کئے جاتے تھے۔ ایک شخص اگر دلچسپ واقعات اور پرجوش مضامین کو عمدہ عربی زبان میں نظم کر دیتا تو وہ فوراً لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتے اور عمومی مجالس میں پڑھے جانے لگتے۔ گویا شعر اس زمانہ میں کسی خیال کی اشاعت کا ایک ذریعہ تھا جس طرح موجودہ زمانہ میں اخبار ہے۔ کعب بن اشرف ایک شاعر تھا۔ بدر میں قریش کی شکست کے بعد اس نے پرجوش اشعار کہے جو قریش اور دوسرے لوگوں میں فوراً پھیل گئے۔ اسی طرح عبداللہ بن ابی وغیرہ اسلام کے خلاف اشعار لکھ کر عوام میں شائع کیا کرتے تھے۔ ان کے رد میں حسان بن ثابت نے نظمیں لکھیں جنھوں نے اس زمانہ میں گویا جوابی اخبار کا کام کیا اور مسلمانوں کے موقف کو عمومی مجالس تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ سیرۃ بن ہشام اس قسم کے اشعار سے بھری ہوئی ہے۔ کارزار توں کا ایک ناپ تولہ مریم جوز یہ ریپرودکشن ہوپ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page