Al-Risala · February 1977 · page 17

میجر بلیکر

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

اس پلانیٹیریم کا ڈیزائن اور منصوبہ ہندوستانی ماہرین نے تیار کیا تھا، اور وہ ہندوستانی فرموں کے علاوہ جرمن ڈیمو کریٹک رپبلک کے سامان اور ٹیکنکل تعاون سے بنایا گیا ہے۔ اس پلانیٹیریم میں بیٹھ کر آپ نہ صرف آج کے آسمان کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ۲۷ ہزار سال پہلے اور ۲۷ ہزار سال بعد تک کے آسمان کا مشاہدہ بھی منٹوں میں کر سکتے ہیں۔ پلانیٹیریم کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ یہ ہے کہ نوجوانوں میں علمی نقطہ نظر (SCIENTIFIC APPROACH) پیدا کرنے کے لئے خصوصی پروگرام رکھے جائیں۔ اس مقصد کے لئے پلانیٹیریم میں مختلف قسم کے سائنسی شو دکھائے جائیں گے جو چھوٹے بچوں سے لے کر یونیورسٹی کے طلبہ تک کے لئے ہوں گے۔ ملک کے مختلف حصوں کے لوگ اس میں شریک ہوں گے۔ بمبئی کی رات کا آسمان منٹوں میں آپ کے لئے قطب جنوبی یا قطب شمالی کا آسمان بن سکتا ہے جہاں ستارے نہ ڈوبتے ہیں نہ نکلتے ہیں۔ یہاں آپ شہابے، مدار ستارے، سورج، چاند، شمسی نظام، حتی کہ کہکشاؤں اور صحابیوں کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں گویا کہ آپ آسمانی فضا میں شامل ہو کر پوری کائنات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ایک زمینی سال کو اس گنبد نما "آسمان" میں ۱۰ منٹ میں پورا کر دیا جاتا ہے۔ یہ اور اسی طرح کے دوسرے مناظر کو دکھانے کے لئے اس میں جو پروجیکٹر لگے ہوئے ہیں ان کی تعداد مجموعی طور پر ۱۱۰ ہے۔ اس قسم کا ایک پلانیٹیریم بنانے کے لئے مختلف علوم درکار ہوتے ہیں مثلاً فلکیات، بصریات، الکٹرکس، انجینئرنگ وغیرہ ۔ آسمان کا سائنسی مشاہدہ کرنا ہو تو بہت سے علوم ضروری ہو جاتے ہیں بٹن نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص،کوٹ،پینٹ ، کوٹ، پینٹ، چسٹر اور کالر شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں ۔

دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔ ۱۱۰۰۰۶

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page