Al-Risala · February 1977 · page 23

میجر بلیکر

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳

شہر میں آئے اسے عرصہ ہو گیا تھا۔ وطن کے احباب اور دوستوں کی ایک ایک تصویر اس کے ذہن کے پردے پر دھندلی ہوتی چلی گئی تھی۔ پھر بھی یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ اپنے وطن کو یکسر فراموش کر چکا ایم اے ہو گا۔ وطن کے نقوش بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ان کا مٹنا آسان نہیں ہوتا۔ کوئی خاص وجہ تھی کہ وہ وطن جانے کے لئے اس طرح بے چین دکھائی نہ دیتا تھا جس طرح بالعموم لوگ وطن کے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا یا اسے کوئی ایسی چیز حاصل ہوگئی تھی کہ اضطراب اور پریشانی کے بجائے اس کے چہرے سے ایک خاص طرح کا سکون اور نے وطن کو جان لیا ہے۔ وطن میں میرا دل بھی لگتا ہے۔ میں جب بھی نماز پڑھتا ہوں اور سجدہ میں جاتا ہو گیا ہے۔ بعض لوگ اسے بے مروت بتاتے کیونکہ ہوں تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے وطن پہنچ گیا۔ اب میں نے اپنے حقیقی وطن کو پہچان لیا ہے۔ جب بھی مجھے وطن کی طرف رخ کرنا ہوتا ہے، اپنے کو حالت سجدہ میں لے جاتا ہوں۔ کسی وطن میں جو سکون اور راحت مل سکتی ہے وہ سکون مجھے سجدہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔

اندازے غلط ہیں! لوگوں نے اسے سمجھنے میں غلطی کی ہے بات تو اس نے گہری کہی مگر اسے سمجھنے والے وہ بے حس نہ تھا۔ اس کے احساسات تو حد درجہ نازک تھوڑے ہیں۔ آدمی کا اصل وطن دور نہیں ہوتا۔ پھر بھی اکثر لوگ بے وطن ہوتے ہیں اور غریب الوطنی کی زندگی گزارتے ہیں۔ جب تک آدمی کی روح بیدار نہ ہو، آدمی کو وہ سجدہ میسر نہیں ہوتا جس کو صحیح معنوں میں سجدہ اس نے کہا: یہ بات نہیں ہے۔ وطن سے بے نیاز کہا جا سکے جو اسے غریب الوطنی سے نجات دے سکے۔ ایسا شخص غریب الدیار ہی رہے گا۔ اس کے دوست اور احباب اسے غریب الوطن بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اُسے وطن کی خبر ہونے نہ دیں گے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page