میجر بلیکر
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴
المسلمان في الْيُونَانِ یونان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو لاکھ ہے۔ یہ اصلاً ترک ہیں اور زیادہ تر یونان کے شمال مشرقی علاقے میں آباد ہیں۔ یہ علاقہ بحر ابیض کے کنارے واقع ہے۔ اس کا مرکزی مقام کو تینی (کو ملجنہ) ہے یونانی مسلمانوں کے مسائل تقریباً وہی ہیں جو دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے ہیں۔ وہ اپنے دین پر پختہ ہیں۔ تا ہم نئی نسل میں اعتقادی کمزوری پیدا ہو رہی ہے اور اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہے کہ ان میں ایسے مصلحین نہیں اٹھ رہے ہیں جو اسلام کے جو ہر کو سمجھیں اور اس کو مؤثر انداز میں ان کے سامنے پیش کریں۔
یہ مغربی تراقیہ کے مسلمانوں کا حال ہے، باقی وہ لوگ جو اس سے ۸۰۰میل دور جزیرہ رو دس میں رہتے ہیں، وہ بڑی حد تک اسلام سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔ کیونکہ جزیرہ سے ترک اقتدار ختم ہونے کے بعد پچھلے پچاس برس سے ان میں اسلام کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے، جزیرہ رو دس ترکی میں جو یونانی غیر مسلم آباد ہیں ان کی معاشی حالت اچھی ہے مگر یونان میں جو ترک مسلمان ہیں ان کا حال اس کے برعکس ہے ہیں اب بھی پانچ مسجدیں ہیں جو عثمانی دور کی یاد دلاتی ہیں۔ مگر یہ مسجدیں اس طرح ویران پڑی ہوئی ہیں گویا ان کو عبادت الہی کے لئے بنایا ہی نہیں گیا۔
شہر کو ملجنہ میں چھوٹی مساجد کے علاوہ پندرہ بڑی مسجدیں ہیں۔ یہاں ہر مسجد میں پنج وقتہ نمازیں ہوتی ہیں۔ تراقیا کی ہر ولایت میں ایک مفتی ہوتا ہے جو نکاح، طلاق، میراث، معاملات شرعی اور مساجد و مدارس کے انتظام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
تراقیا میں تین مسلم جماعتیں ہیں۔ ان میں بڑی جماعت اتحاد مسلمی الیونان ہے جو ۱۹۲۴ میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے بانی شیخ مصطفی صبری آفندی تھے جو عثمانی خلیفہ سلطان وحید الدین کے زمانہ میں شیخ الاسلام تھے۔ اس کے ممبروں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے ۔
اس جمعیۃ نے یونانی مسلمانوں کی مختلف خدمات انجام دی ہیں۔ مثلاً جنگ اول اور ثانی کے زمانہ میں سیکڑوں اسلامی اوقاف (دکان، مکانات، باغات وغیرہ) حکومت یا افراد کے قبضہ میں چلے گئے تھے۔ ان کو دوبارہ حاصل کیا۔ ترکی زبان میں اسلامی کتابوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues