Al-Risala · February 1977 · page 27

لِمَثل هذا فليعمل العاملون

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷

کام کرنے والوں کو اس کے لئے کام کرنا چاہئے رمضان ۱۳۹۳ھ کے آغاز میں یہ خبر آئی تھی کہ جمہوریہ گابون کے صدر برنارو بانگو نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں نے اسلام کو اس لئے اختیار کیا کہ اس میں مجھے فطرت کا نور اور انصاف اور مساوات کی عظمت نظر آئی۔

اسلام کے مبلغین افریقہ میں دس بیس ہوں گے موجودہ مغربی تہذیب اپنی تمام چمک دمک کے با وجود اپنے اندر کے صاف ذہن لوگوں کو اس سے نہ روک سکی کہ وہ اسلام کے نور سے اپنے لئے روشنی حاصل کریں۔ چنانچہ یورپ اور امریکہ کے تہذیبی مراکز سے اسلام ہر دن اپنے اعوان و انصار پارہا وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان کمزور ہیں اور دشمنوں نے ان کے اوپر غلبہ حاصل کر رکھا ہے۔ مگر یہ واقعہ ان کے لئے اسلام کی طرف آنے میں رکاوٹ نہ بن سکا۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی سچائی الگ چیز ہے اور مسلمانوں کی عملی حالت دوسری چیز ہے۔

اسلام کا ایک مؤثر عقیدہ کی حیثیت سے زندہ رہنا اور اس کا ایسا دین ہونا جو دلوں کو مفتوح کرے۔ یہ موجودہ زمانہ میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور بعض علاقوں میں تو ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود اسلام دلوں تک پہنچنے کے لئے اپنا راستہ پارہا ہے ۔ اس کی روشنی دیکھنے والوں کے لئے مخفی نہیں ۔ کیونکہ اسلام وہ دین ہے جو فطرت کو مخاطب کرتا ہے، جو عقل کو پکارتا ہے اور شعور کو حرکت میں لاتا ہے۔ یہ ایسا دین ہے جس میں طلسماتی چیزیں اور مجہول باتیں نہیں ۔ اس میں خرافات اور اباطیل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بصیرت سے پردہ اٹھتا ہے اور فطرت کے اوپر سے مصنوعی بادل چھٹتے ہیں تو بہت جلد انسان اسلام کا راستہ پہچان لیتا ہے۔ اسلام کا یہی معجزہ ہے جس نے تاتاریوں کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا دیا اور وہ اس کی حمایت کرنے والے بن گئے ۔ حالاں کہ وہ دارالخلافہ کو برباد کرنے آئے تھے اور اسلامی تہذیب کو مٹاڈالنا چاہتے تھے۔ ہے ۔ جب کہ قومیں اس کی دشمن بنی ہوئی ہیں اور بلادِ اسلام کو ڈ ڈھانے اور اہل اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے جنگیں برپا کئے رہتی ہیں ۔

مگر اسلام کی یہ ذاتی قوت امت اسلامیہ کے لئے اس کی دعوتی ذمہ داریوں سے معافی کا سبب نہیں بن سکتی۔ ہم کو بہر حال انسانیت کے سامنے حق کو واضح کرنا ہے تاکہ وہ اپنے طریقے کو پکڑ لے اور اپنے راستہ کو پالے۔ ہمارے بزرگ اکابر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے پوری طرح اٹھے انھوں نے دنیا کو اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے خود اس سے برکت حاصل کی اور دوسروں کو برکت دی ۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو سمجھیں جو دین حق نے ہمارے اوپر ڈالی ہے تاکہ ہم اس عزّت کے مستحق بنیں جو اس امت کے مثالی لوگوں ۔ صحابہ کرام ۔ کو ملی۔ یہ ہے وہ کام جو کرنے والوں کو کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page