لِمَثل هذا فليعمل العاملون
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
لبی ہے۔ ۱۹۵۷ء میں جب صدر بونگو ہندوستان آئے تھے تو یہاں انھوں نے بعض مجالس میں ذکر کیا کہ ان کو ایک لیڈی ٹیچر کی ضرورت ہے جو ان کے گھر کی خواتین کو اسلامی تعلیم دے اور ان کی دینی تربیت کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کوئی خاتون اس کام کے لئے مل سکیں تو میں ان کو ترجیح دوں گا۔ مگر ان کے گھر کی زبان فرانسیسی ہے۔ ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو عربی اور فرانسیسی جانتی ہو ۔ مگر ہندوستان سے ایسی کسی خاتون کا انتظام نہ ہو سکا۔ گابون کا رقبہ ۲ لاکھ ۶۷ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی ایک ملین ہے۔ صدر عمر بونگو کے قبولِ اسلام سے پہلے یہاں مسلمانوں کی مجموعی آبادی تقریباً ۳۵ ہزار تھی۔ اب اس تعداد میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔
گابون اپنے گھنے جنگلات کے لئے بہت مشہور ہے ملک کی اہم پیداوار لکڑی ہے۔ سمندر اور خشکی سے پٹرول بھی نکالا جاتا ہے۔ تیل صاف کرنے کا کارخانہ پورٹ جنتی میں قائم کیا گیا ہے۔ مگر اس کارخانہ میں حکومت کا سر ما یہ صرف۵ فی صد ہے۔ بقیہ سرمایہ دوسروں کا ہے۔ صدر عمر بو نگو نے ملک کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے اور اس سلسلہ میں عرب حکومتوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ عرب ممالک زیادہ سے زیادہ انھیں پٹرول ڈالرز دے سکتے ہیں جب کہ گابون کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ "انسان" ہیں نہ کہ ڈالر۔ اس کو ہر فن کے ایسے ماہرین درکار ہیں جو ملک کے ترقی پذیر معاشرہ کے مختلف شعبوں کا چارج لے سکیں۔ اور اس معاملہ میں عرب ممالک کا حال یہ ہے: او خویشتن گم است کرا رہبری کند گابون، اسی قسم کے دوسرے افریقی ممالک کی طرح، ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ زراعی شعبے، تجارتی منصوبے، صنعتی تنظیمیں، تعلیمی درس گاہیں، سائنسی تحقیقات اور حکومتی دفاتر سے لے کر خالص مذہبی اداروں تک ہر کام کے لئے اس کو تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہے۔ کچھ افراد، اپنی فطرت کی آواز پر، دین حق میں شامل ہو گئے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ ملک کے حکمران افراد ہیں اور اگرچہ ملک کے تقریباً تمام شعبوں پر عیسائیوں اور فرانسیسیوں کا گابون کو اگست ۱۹۶۰ میں فرانسیسی اقتدار سے آزادی مل گئی تھی ۔ مگر اقتصادی آزادی حاصل کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ حکومت کے عہدوں پر زیادہ تر فرانس کے تعلیم یافتہ عیسائی قابض ہیں۔ ملک کا سارا نظم ہی چلاتے ہیں ۔ عیسائی مشنریاں بھی کثیر تعداد میں ملک کے اندر پھیلی ہوئی ہیں اور منصوبہ کے تحت منظم طور پر اپنے تبلیغی مشن میں مصروف ہیں۔ اسپتال، اسکول، کالج، کھیل کے میدان، کلب ، غرض جدید زندگی کی سرگرمیوں کے تمام ادارے انھوں نے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعے عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔
قبضہ ہے، یہ نو مسلم حکمران مسلمانوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ وہاں آئیں اور ہمہ گیر جد و جہد کے ذریعے ملک کے مستقبل کو بدل ڈالیں۔ مگر مسلم ممالک کے رہنماؤں اور مفکروں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا محبوب مشغلہ یہ ہے کہ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی فکر میں لگے رہیں۔ اور اگر عملاً اس کے مواقع نہ ہوں تو "قنوت نازلہ" پڑھنا شروع کردیں۔ وقت آگیا ہے کہ سطح ارضِ اسلام کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے۔ مگر یہاں کسی کو کرنے کا کوئی کام نظر نہیں آیا۔ مسلم قائدین کے سیاسی ذوق نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے !
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues