لِمَثل هذا فليعمل العاملون
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰
۱- سید محمد بن یوسف حسینی جو نپوری (م ۱۵۰ ا- ۱۴۴۳ء) اپنے زمانہ کے ایک مسلمہ بزرگ تھے۔ اللہ کی ذات پر انھیں اس قدر یقین تھا کہ انھوں نے اعلان کردیا کہ انسان اگر اس دنیا میں دیدار الہیٰ سے مشرف نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو قلب یا چشم سر سے خواب یا بیداری میں نہ دیکھے تو مومن نہیں “ اُن کے سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ وہ ”صدق و عزیمت میں پایہ بلند رکھتے تھے۔ بڑے قوی الاستعداد صاحب تاثیر بزرگ تھے، دعوت الی اللہ ، ہجرت فی سبیل اللہ ایثار و زہد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
مگر اس تمام نیکی اور بزرگی کے باوجود ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وہی ”مہدی موعود“ اور ”مہدی آخرالزماں “ ہیں جن کے متعلق حدیثوں میں خبر دی گئی ہے، وہ فرقہ مہدویہ کے بانی ہوئے۔ اُن کی بزرگی اور تقدس اس قدر مسلم تھا کہ جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا تو اس وقت کے ہندوستان میں (جس میں افغانستان بھی شامل تھا، زبر دست ہلچل پیدا ہو گئی ۔ علماء و سلاطین سے لے کر عوام تک وہ گفتگو کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ مگر بعد کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ محض وہم پر مبنی تھا ۲- محمد حامد (۱۸۸۵ء ۔ ۱۹۴۸ء) جو بعد کو مہدی سوڈانی کے نام سے مشہور ہوئے، ایک خالص عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد اُن کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا۔ انھوں نے ایک مسجد بنائی اور اس میں گوشہ نشین ہو کر تعلیم اور عبادت میں مشغول ہو گئے۔ چونکہ شخصیت پرکشش پائی تھی ۔ اُن کے مریدوں اور شاگردوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ کافی مشہور ہو گئے۔ یہ شہرت اور مقبولیت اُن کے لئے غلط فہمی کا باعث بن گئی۔ ایک مورخ لکھتے ہیں: لماکثراتباعه و مريديه واعتقد انه المهدى المنتظر ثم اخذ ينشر دعوته و وزع منشورات على الناس بانه المهدی المنتظر ۔ (جمال الدین الافغانی ۔ صفحه (۱۲۶) جب اُن کے پیروں اور مریدوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ سمجھنے لگے کہ میں ہی مہدی ہوں پھر انھوں نے اپنی دعوت پھیلانی شروع کی اور لوگوں میں مشہور کیا کہ مہدی موعود وہی ہیں ۔
اس زمانہ میں سوڈان پر انگریزوں کا غلبہ تھا اور وہ وہاں مظالم کر رہے تھے ۔ "مہدی" ہونے کی حیثیت سے انھیں اس فتنہ کو ختم کرنا ضروری تھا۔ اس طرح اُن کی خانقاہی زندگی میدان جنگ کی زندگی میں تبدیل ہو گئی۔ انھیں ابتدائی کامیابیاں ہوئیں مگر انگریزوں نے بالآخر اُن کے گروہ کو شکست دی اور انھیں کچل کر ختم کر دیا۔ "مہدویت" پر انگریزیت غالب آگئی۔ ۳ - ابوالکلام آزاد (۱۹۵۸-۱۸۸۸ء) کو قدرت نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ مگر اُن کی درج ذیل سطریں صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ اپنے بارے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues