لِمَثل هذا فليعمل العاملون
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
میں شدید غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے :
"افسوس ہے کہ زمانہ میرے دماغ سے کام لینے کا کوئی سرو سامان نہ کر سکا۔ غالب کو تو صرف اپنی شاعری کا رونا تھا۔ نہیں معلوم میرے ساتھ قبر میں کیا کیا چیزیں جائیں گی۔
بعض اوقات سوچتا ہوں تو طبیعت پر حسرت و الم کا ایک عجیب عالم طاری ہو جاتا ہے، مذہب، علوم وفنون، ادب وانشا، شاعری کی کوئی ایسی وادی نہیں جس کی بے شمار راہیں مبد ار فیاض نے مجھ نامراد کے دل و دماغ پر نہ کھول دی ہوں اور ہر آن و ہر لحظہ بخششوں سے دامن مالامال نہ ہوا ہو۔ جبکہ ہر روز اپنے آپ کو عالم معانی کے ایک نئے مقام پر پاتا ہوں اور ہر منزل کی کرشمہ سنجیاں پچھلی منزلوں کی جلوہ طرازیاں ماند کر دیتی ہیں لیکن افسوس جس ہاتھ نے فکر و نظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا اسی نے شاید سرو سامان کا رکے لحاظ سے تہی دست رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد اور محل کا آدمی نہ تھا مگر اس کے حوالہ کر دیا گیا۔ “ ۴۔ ابوطیب احمد بن حسین متنبی (م ۳۵ ۳۰۳ھ) کوفہ کے ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ کوفہ میں بھشتی کا کام کرتا تھا۔ متنبی بچپن سے بلند حوصلہ آدمی تھا اور بڑا بننے کا شوق رکھتا تھا۔ اس کا یہ جذبہ اولاً اس کو شاعری کی طرف لے گیا، کیونکہ اس زمانہ میں شہرت ، دولت اور مرتبہ حاصل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ شاعری تھا۔ مگر شاعر بننا اُس کی طبیعت کو پوری طرح تسکین نہ دے سکا۔ اب اس نے بادشاہ بننے کا خواب دیکھا اور لوگوں کو اپنی خلافت کی بیعت پر ابھارنا شروع کیا۔ بیعت کا معاملہ پورا ہونا چاہتا تھا کہ علاقہ کے گورنر کو اس کے منصوبہ کی اطلاع ہو گئی اور اس نے اس کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جیل خانے سے اس نے گورنر کے نام ایک قصیدہ لکھ کر روانہ کیا اور اس میں معافی کی درخواست دی۔ گورنر نے اس کو رہا کر دیا۔
مگر بڑا بننے کا ذہن اب بھی اس کے اندر سے ختم نہ ہو سکا۔ اب اس نے ایک اور تدبیر کی ۔ اس نے شام میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اپنی جادو بیانی اور اپنے ادبی زور سے بہت سے لوگوں کو اپنا معتقد بنانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ متنبی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا ۔ آپ ہی نے تو میری آمد کی بشارت دی تھی اور فرمایا تھا لانبی بعدی - اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ مگر متنبی نے اعراب میں تغیر کر کے یہ مطلب نکالا : میرے بعد لا نا می شخص نبی ہوگا اور میرا نام آسمان میں "لا" ہے۔ اس نے قرآن کے مقابلہ میں اپنا کچھ کلام بھی پیش کیا۔ اس کے دعوے کو شہرت ہوئی تو اسے اخشیدیہ کے نائب امیر حمص نے گرفتار کر لیا ۔ متنبی پریشان ہو گیا اور دعوے نبوت سے توبہ کر کے رہائی حاصل کی۔ اب اس کے معتقدین کا حلقہ بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد وہ مختلف بادشاہوں کی مدح کر کے دولت کماتا رہا ۔ مگر اس کا سراری مزاج اسے بار بار خود اپنے ممدوح سے ٹکرا دیتا تھا بالآخر عضدالدولہ (شیراز) نے اس کو قتل کرا دیا۔ حالانکہ اس پہلے متنبی نے اسکی مدح کر کے اسے انعام واکرام حاصل کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues