Al-Risala · February 1977 · page 32

لِمَثل هذا فليعمل العاملون

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۲

برآمدی تجارت کو ترقی دینے کے لئے بندرگاہ کو ترقی دینا ضروری تجارتی نقل وحمل، قدیم زمانہ میں، خشکی اور تری سے ہوتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں اگر چہ اس میں تیسرے ذریعے (فضائی) کا اضافہ ہو گیا ہے، تاہم آج بھی بین الاقوامی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ سمندری جہاز رانی ہی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان میں پانچ بڑی بندرگاہیں تھیں جن میں سے ایک وسکھا پٹنم کی بندر گاہ تھی۔ جاپان جو ہندوستان میں خام لوہے کا سب سے بڑا خریدار ہے اس کو خام لوہے کی برآمد اسی بندر گاہ سے ہوتی تھی۔ مگر بڑھتی ہوئی برآمد اور نئے طریقوں کی ایجاد کے بعد یہ بندر گاہ ناکافی نظر آنے لگی۔ ۱۹۶۴ - ۶۵ ء میں پہلی بار اس میں اتار نے چڑھانے کے مشینی آلات لگائے گئے۔ اس سے خام لوہے کی برآمدی تجارت کو کافی ترقی ہوئی۔

مگر اب سمندری جہاز رانی میں زبردست تبدیلی ہو گئی ہیں۔ اشیاء کے نقل و حمل کے لئے بہت بڑے بڑے جہاز استعمال ہونے لگے ہیں۔ ان جہازوں کو بندر گاہ پر لانے کا انتظام اور ان پر سامان لادنے اور اتارنے کے لئے نئے نئے طریقے رائج ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں دوبارہ ضرورت تھی کہ وسکھا پٹنم کی بندر گاہ کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جائے ۔

8 دسمبر۱۹۷۶کو شپنگ اور ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جی۔ ایس۔ ڈھلون نے وسکھا پٹنم میں جس آؤٹر ہاربر کا افتتاح کیا ہے وہ اسی ضرورت کی تکمیل ہے جدید تعمیر کے بعد وسکھا پٹنم کی بندرگاہ دنیا کی دوسری اور ایشیا کی سب سے لمبی اور گہری بندرگاہ ہو گئی ہے۔ یہ جدید بندر گاہ جاپان کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہے۔ اسی کی ایک علامت کے طور پر وسکھا پٹنم کی رسم افتتاح میں پنڈال کے اندر بڑی تعداد میں جاپانی موجود تھے۔ جدید بندر گاہ میں ایک لاکھ ڈی ڈبلیوٹی کی صلاحیت کے جہاز داخل ہو سکیں گے اور ان پر ہر ہزار ٹن فی گھنٹہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page