Al-Risala · February 1977 · page 33

لِمَثل هذا فليعمل العاملون

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳

شفیق احمد انبالہ والا دھلی خدائی قانون میں جانب داری نہیں ہوتی قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ قبیلہ کے لوگ سخت پریشان کہ اس کو سزا سے کیسے بچائیں ۔ خود نبی اکرم سے سفارش کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آخر کار حضرت اساؓمہ کو کسی طرح راضی کیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ آپ حضرت اسامہہ کو بہت محبوب رکھتے ہیں اس لئے ان کی بات مان لی جائے گی۔ حضرت اسامہ نے جب یہ بات کہی تو سن کر آپ سخت ناراض ہوئے غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، اور فرمایا:

" اسامہ! کیا تم حدود اللہ کے معاملہ میں سفارش کرتے ہو؟"

پھر سب لوگوں کو جمع کیا، خطبہ دیا اور فرمایا: " تم سے پہلی قویم اسی لئے تباہ ہوگئیں کہ جب کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب معمولی آدمی جرم کرتے تو سزا پاتے تھے۔ خدا کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا "۔

کی رفتار سے مال بھرا جاسکے گا۔ حکومت کے سامنے منصوبے یہ ہے کہ اس صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے ۔ اور دو لاکھ ڈی ڈیلیوٹنک کے جہاز کی گنجائش پیدا کی جائے ۔ تیل کے ٹینکر جو باہر سے ہندوستان کے لئے تیل لاتے ہیں وہ بھی اسی بندرگاہ پر کھڑے ہوتے ہیں، منصوبہ یہ ہے کہ تیل کے لئے ایک علیحدہ ” آئی jetty“ بنائی جائے۔ وسکھاپٹنم کی اس بندرگاہ کی تعمیر کا کام فروری ۱۹۴۷ میں شروع ہوا تھا۔ اس بندرگاہ کو آسٹریلیا کی بندرگاہ کا مقابلہ درپیش تھا۔ جو جاپان کے لئے خام لوہے کا دوسرا بڑا مارکیٹ ہے۔ مگر جدید بندرگاہ کی تعمیر کے بعد مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ ابتداء اس منصوبہ پر ۳۷ کروڑ ۹۷ لاکھ روپے کے خرچ کا اندازہ کیا گیا تھا۔ جس میں فارن ایکس چینج کی رقم ۸ کروڑ ۷۲ لاکھ روپے کے بقدر تھی۔ مگر منصوبہ کی تکمیل تک اخراجات کی مقدار ۹۷ کروڑ ۲۹ لاکھ ( زر مبادلہ : اکتو رہم ۶ لاکھ روپے ) تک پہنچ گئی۔

آندھرا پردیش کے ساحل پر واقع بندرگاہ کی یہ جدید تعمیر نہ یادہ تر ملکی مہارت اور ملکی ذرائع کی مدد سے کی گئی ہے۔ ہندوستان نہایت تیزی سے صنعت اور رکنا لوجی میں مکمل خود کفالتی دور کی طرف جا رہا ہے۔ اس بندرگاہ کے افتتاح کے موقع پر وسکھا پٹنم ٹرسٹ نے اعلان کیا کہ خام لوہے کی میکینکل ہینڈلنگ کے منصوبے کی اس کامیابی کے بعد طے کیا گیا کہ آندھرا یونیورسٹی میں خاص اس موضوع کے مطالعہ کے لئے ایک ” چیر “ قائم کی جائے گی۔ یونیورسٹی کے اس شعبہ کا مقصد اشیاء کے چڑھانے اتارنے کا کام (Materials Handling systems) کا خصوصی مطالعہ کرنا ہوگا۔ ★

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page