Al-Risala · February 1977 · page 4

لِمَثل هذا فليعمل العاملون

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴

انسانی تجربات انسان کو سچائی کے دروازہ تک پہنچا چکے ہیں۔ اب دین حق کے حاملین کو یہ کرنا ہے کہ وہ اٹھیں اور سچائی کے بند دروازہ کو کھول دیں۔ تاکہ انسانی قافلہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں داخل ہوجائے جہاں ان کا رب ان کا انتظار کر رہا ہے۔

ریاض کانفرنس کا مقالہ جدید سائنس قرآن کا علم کلام ہے اسلامی ریاست ابتداء مدینہ میں ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں قائم ہوئی۔ اس وقت سے لے کر 19 ویں صدی کے اختتام تک شریعت اسلامی زمین کے بڑے حصہ پر بلا اختلاف جاری رہی ہے۔ ان تیرہ صدیوں میں اگرچہ سماجی زندگی میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے، مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھا کہ شریعت اسلامی مخصوص وقت کے لئے تھی وہ ہر زمان ومکان کے لئے موزوں نہیں۔ مدینہ کی ابتدائی ریاست، ایک سادہ عرب ریاست تھی جس میں پیغمبر اسلام نے اسلامی قانون کو جاری کیا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں شام، مصر، عراق، ایران، فلسطین کے متمد ن علاقے اس کے تحت آگئے۔ مگر عمر فاروق اور علی مرتضیٰ کو نئے حالات پر اسلامی شریعت کو منطبق کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ دور عباسی میں ایک طرف اسلامی سلطنت کا سیاسی رقبہ اتنا وسیع ہو چکا تھا کہ آسمان پر بادل کا ٹکڑا دیکھ کر ہارون الرشید کو یہ کہنے کی جرات ہوئی کہ أَمْطِرِي حيث شئت فنسياً تئنی خواجك (جہاں چاہے برس، تیراخراج مجھی کو پہنچے گا) دوسری طرف یونان، مصر، ہند، چین کے علوم از سر نو زندہ ہوئے اور اسلامی معاشرہ علم وفن کے اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ مگر قاضی ابویوسف وقت کی اس سب سے بڑی اور سب سے زیادہ متمدن سلطنت کا نظام اسلامی شریعت کی بنیاد پر چلانے میں پوری طرح کامیاب رہے۔ اس کے بعد مغلوں اور ترکوں کا دور آیا اور ایشیا، افریقانیہ یورپ کے بڑے۔ اسلام کے ماتحت آگئے۔ مگر اول الذکر کے عہد میں فتاویٰ عالمگیری اؤنوکر الذکر کے عہد میں المجلة العثمانیہ کا ترتیب پانا تب ہے۔ نہ انہوں نے شریعت کو اپنے بڑھے ہوئے قانونی مسائل کے لئے عاجز نہیں پایا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بیسویں صدی ہی میں ہم یہ آواز سنتے ہیں کہ "شریعت اسلامی ہر زمان ومکان کے لئے موزوں نہیں۔ " اس کی وجہ مستشرقین کا پروپیگنڈا نہیں، جیسا کہ بعض لوگ سادگی سے سمجھتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ وہ عالمی فکری انقلاب ہے جو جدید سائنس کے زور پر پیدا ہوا ہے۔ ہر دور کا ایک رئیسی طرز فکر ہوتا ہے۔ اس کے تحت آدمی کے خیالات بنتے ہیں، اور ہر معاملہ میں اسی کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔ چند سو برس پہلے دنیا کا رئیسی طرز فکر ما بعد الطبیعیاتی بنیادوں پر قائم تھا۔ پچھلے تمام معلوم زمانوں سے یہی طرز فکر چلا آرہا تھا۔ اور اسی کی بنیاد پر رائیں قائم کی جاتی تھیں۔ سائنس نے تاریخ میں پہلی بار اس طرز فکر کو اس کے مقام سے ہٹا دیا اور طبیعیاتی انداز فکر کو رئیسی حیثیت دے دی۔ مذہب اور جدید ذہن کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page