خدائی اور بندگی کی دریافت
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۹
اس کائنات میں سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہے، وہ آخرت ہے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ زمین و آسمان میں بوجھل ہورہی ہے۔ حاملہ کے پیٹ میں پورا حمل جس طرح بظاہر دکھا ئی نہ دیبے کے باوجود اس کے پورے وجود سے بول رہا ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت باہر آ جائے گا۔ ایسے ہی آخرت ساری کائنات میں اس طرح ابلی پڑ رہی ہے کہ ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ ظاہری پردہ پھٹ جائے اور آخرت اپنے تمام لوازم کے ساتھ سامنے آجائے۔ ثقلت في السموات والأرض لا تأتيكم الا بغتة وہ زمین و آسمان میں بوجھل ہورہی ہے۔ وہ اچانک اعراف - ۱۸۷ آ جائے گی۔
قرآن میں مومن کی جو تصویر دی گئی ہے، وہ یہ کہ آخرت کے اس بظاہر چھپے ہوئے واقعہہ کو وہ اپنی کھلی ہوئی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔ آخرت کا خیال اس کے اوپر اتنا زیادہ چھایا جاتا ہے کہ ہر طرف اس کو بس آخرت ہی آخرت دکھائی دینے لگتی ہے۔ ہر واقع اس کو آخرت کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے اس کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ایک شخص سے جو زندگی مطلوب ہے، وہ حقیقتاً یہ نہیں ہے کہ آدمی یہاں کچھ خاص طرح کے عملی رسوم ادا کر لے جس کا نتیجہ مرنے کے بعد دوسری دنیا میں اس کے سامنے آجائے۔ بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں زندگی گزارنے لگے۔ وہ آج ہی اس دنیا میں سانس لینے لگے جہاں اس کو کل پہنچنا ہے، آدمی جب تصوراتی عبادت کے مقام کو پہنچتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو بھی پا لیتا ہے اور اپنے خدا کو بھی۔ اسلام اس کے لئے خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کی یافت کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔
خدا اپنی پوری شان کمال کے ساتھ کائنات میں ظاہر ہوا ہے۔ خدائی بے پایاں وسعتیں اس کی عظمت کا حال بیان کر رہی ہیں۔ سورج کی تابانیاں اس کے نور کو ہر طرف بکھیر رہی ہیں۔ زمین کا سبزہ و شاداب کرہ اس کی رحمتوں کی کہانی سنا رہا ہے۔ ستاروں کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کے ہولناک عذاب کی چتاونی دے رہی ہے۔ غرض ذرہ سے لے کر کہکشانی نظاموں تک ہر چیز خدا کی بے پایاں ہستی کا تعارف ہے۔ اسلام کو پانے کا مطلب خدا کو اس کی کائنات میں دیکھ لینا ہے۔ جب آدمی حقیقی طور پر مومن بن جائے تو زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا یہ عالم اس کے لئے خدا کے جلال و جمال کا آئینہ بن جاتا ہے ۔ مخلوقات کے پردہ میں وہ خالق کو اس طرح پالیتا ہے کہ بقیہ تمام چیزیں اس کے لئے سایہ کی مانند ہوجاتی ہیں۔ خدا سب سے زیادہ حقیقی وجود کی حیثیت سے اس کے قلب و نظر کا مرکز بن جاتا ہے۔
دوسری طرف یہی یافت اس کو یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کس قدر حقیر اور گذر در ہے۔ وہ دیکھنے لگتا ہے کہ اس کائنات میں جو تقسیم ہے وہ عجز اور اختیار کی ہے، نہ کہ خود اختیار کی ۔ یہاں سارا اختیار ایک طرف ہے اور سارا عجز دوسری طرف۔ اختیار داتندآ کی تمام قسمیں خدا کی طرف ہیں، اور عجز و ناداری کی تمام صورتیں انسان کی طرف۔ یہ دریافت اس کے اندر عاجزی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کو اس حقیقت واقعہ سے باخبر کرتی ہے کہ وہ ایک حقیر وجود ہے۔ حدیث کے الفاظ میں وہ پکار اٹھتا ہے : خدایا تمام انسان بھوکے ہیں الایہ کہ تو انہیں کھانا کھلائے، تمام انسان ننگے ہیں الایہ کہ تو انھیں کپڑا پہنائے، تمام انسان پیاسے ہیں الایہ کہ تو انھیں پانی پلائے، تمام انسان نے سایہ ہیں الا یہ کہ تو انھیں اپنے سایہ میں جگہ دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues