اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۷
اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے
عمرو بن العاص اور خالد بن الولید صفر8 ھ میں اسلام لائے ۔ عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں مدینہ جاتے ہوئے ھدہ پہنچا تو راستہ میں دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے دیکھا تو ان میں سے ایک خالد بن الولید تھے۔ دونوں میں جو گفتگو ہوئی ، اس کا ایک حصہ یہ تھا:
قلت این ترید، قال محمداً دخل الناس فی عمرو بن العاص نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے۔ خالد بن الولید الاسلام فلم يبقى احدا به طعم نے جواب دیا محمد کے پاس جا رہا ہوں۔ لوگ اسلام میں داخل (اخرجہ البیہقی من طریق الواقدی ) ہوگئے۔ کوئی چاشنی والا آدمی باقی نہیں رہا۔
رجل ذوطعم کا مفہوم عربی زبان میں تقریباً وہی ہے جو انگریزی میں (Man of taste) کا ۔ اردو میں اس کو صاحب ذوق کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں تمام کارنامے انھیں لوگوں نے انجام دئے ہیں جن کے اندر یہ مبلغ ہو کہ وہ "ذوق" کے تحت رد و قبول کا فیصلہ کرتے ہوں۔ باقی وہ لوگ جو فائدوں اور مصلحتوں کے تحت چلتے ہوں، وہ ہمیشہ اپنی ذات کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ ان پر نہ زندگی کے بڑے بڑے حقائق کھلتے اور نہ ان سے کسی بڑے کام کی امید کی جاسکتی۔
عرب میں جو انسانی گروہ جمع تھا، وہ اس صلاحیت کی اعلیٰ ترین مثال تھا۔ یہ انتہائی اونچی طبیعت کے لوگ تھے۔ اپنے دشمن کے خلاف وہ ہر قسم کا تشدد کر سکتے تھے۔ مگر وہ اپنی آن کو کبھی چھوڑتے نہ تھے۔ کسی بھی حال میں ان سے کسی ذلیل حرکت کی امید نہ کی جاسکتی تھی۔ عرب کردار کی شہاد تیں تاریخ میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہاں بطور نمونہ صرف ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔
قدیم زمانہ میں ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی باز نطینی سلطنت دو بڑی حریف حکومتیں تھیں ۔ ان میں اکثر جنگ جاری رہتی تھی۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں ان کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں یہاں تک کہ 616ء میں ایرانیوں نے رومیوں کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔ رومی سلطنت کے تقریباً تمام مشرقی مقبوضات ، اردن، شام ، فلسطین ، عراق ، مصر ، سب ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ اور رومی شہنشاہ قسطنطنیہ میں پناہ گزیں ہو گیا۔ یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب کہ مکہ میں اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش اپنی شدید ترین شکل میں جاری تھی ۔ ایسے حالات میں اہل کتاب رومیوں کے مقابلہ میں بت پرست ایرانیوں کی فتح مکہ کے لوگوں کے لئے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی۔ مشرکین نے اس سے اپنی فتح کا شگون لیا اور مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس میں ہمارے بت پرست بھائیوں نے آسمانی کتاب کے حاملین پر غلبہ حاصل کیا ہے ، اسی طرح ہم بھی تمھارے اوپر غالب آجائیں گے۔ عین اس وقت قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ اتری اور اعلان کیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ حالات بدلیں گے اور رومی ، ایرانیوں کو شکست دے کر غالب آ جائیں گے ۔ قرآن کی اس پیشین گوئی نے مکہ کے مسلمانوں کو انتہائی ذہنی تقویت دی۔ وہ اس پر یقین رکھنے لگے کہ اللہ کا فیصلہ یہی ہے۔
دوسری طرف ابو بکر کے قریبی دوست ابی بن خلف نے اس سے اپنی فتح کا شگون لیا اور ابو بکر سے شرط لگائی کہ تین سال کے اندر رومی ایرانیوں پر غالب نہیں آئیں گے۔ ابو بکر نے یہ شرط قبول کر لی اور مدت تین سال کے بجائے پانچ سال طے ہوئی اور شرط کی رقم سو اونٹ قرار پائی۔ اس کے بعد ابوبکر نے نبی سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں لفظ (بضع سنين) آیا ہے اور بضع تین سے نو تک کے عدد کو کہتے ہیں اس لئے تم مدت کو بڑھا کر دس سال کر دو اور اونٹوں کی تعداد بھی بڑھا کر سو سے ایک سو اونٹ کر دو۔ چنانچہ ابوبکر گئے اور ابی بن خلف سے مدت دس سال اور اونٹوں کی تعداد سو کر دی۔
قرآن کی پیشین گوئی بالکل صحیح نکلی۔ ہجرت کے ساتویں سال صلح حدیبیہ کے موقع پر رومیوں نے ایرانیوں پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی اور ابو بکر نے اپنے مخالف سے شرط کے مطابق سو اونٹ وصول کئے۔ ( ابن کثیر ، تفسیر سورہ روم)
یہ واقعہ تاریخ کا ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس میں کتنی بڑی نفسیاتی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ مکہ کے مسلمان جب کہ خود اپنے ہی شہر میں ایک کمزور اقلیت بنے ہوئے تھے اور باہر ہر طرف بت پرست طاقتوں کا غلبہ تھا ، اس ماحول میں ایک ایسی پیشین گوئی پر سو اونٹ کی شرط باندھنا جو صرف عقیدہ کی بنیاد پر تھی ، کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لوگ اپنے خدا پر کس درجے کا پختہ یقین رکھتے تھے اور اپنے مستقبل کے بارے میں ان کے اندر کتنی بڑی بصیرت پائی جاتی تھی۔ وہ محض وقتی مفاد اور ظاہری حالات کے تحت سوچنے والے لوگ نہ تھے۔ وہ اس حقیقت کو جانتے تھے کہ دنیا میں ظاہری حالات کے پیچھے ایک اور طاقت کام کر رہی ہے، جس کو تقدیر الہی کہا جاتا ہے۔ وہ ظاہری طوفانوں کے سامنے جھکنے والے نہیں تھے ، بلکہ وہ خدا کے غیبی فیصلوں کے منتظر رہتے تھے، اور جب کوئی الہی فیصلہ ظاہر ہو جاتا تو وہ اس کو اس طرح اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے جیسے کوئی پانی کو گلے سے اتار لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں جہاں کسی قوم نے حالات کے بالمقابل اتنی بڑی فکری آزادی کا ثبوت دیا۔ وہ حالات کے غلام نہیں تھے بلکہ حالات کے خالق تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues