جاحظ اور حریری
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۶
"ہم نے اپنے رسول نشانیاں دے کر بھیجے اور ان کے ساتھ کتاب اور تر از و اتاری ، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں" (حدید ۲۵) قرآن کا یہ ارشاد بتاتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے کیا مطلوب ہے۔ وہ مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں دوسروں کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرے جو انصاف کے مطابق ہے۔ اس کا ہر عمل خدا کی شریعت کی تراز و میں تلا ہوا ہونا چاہئے ۔ لینا ہو یا دینا ، دونوں حالتوں میں وہ لوگوں کے حقوق کی پوری پوری ادائگی کرے چنانچہ ارشاد فرمایا: اے ایمان والو ، انصاف پر خوب قائم رہو اور اللہ کی گواہی دینے والے بنو۔ اگر چہ اپنی ہی ذات پر ہو نساء ۱۳۵) بندہ مومن کی اگر کسی شخص سے ان بن ہو جاتی ہے ، تب بھی اس کے عادلانہ رویہ میں فرق نہیں آتا۔ خدا کا ڈر اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر حال میں وہی کرے جو حقیقتاً انصاف کا تقاضا ہے: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اْعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (مائدہ - ۸) کسی کی عداوت کے باعث انصاف کو نہ چھوڑو، انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ سے لگتی ہوئی ہے۔ تا ہم خود انصاف پر چلنا جتنا مطلوب ہے ، اتنا ہی یہ بات غیر مطلوب ہے کہ آدمی دوسروں کے خلاف انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ہر شخص سے اپنی ذات کے بارے میں خدا کے یہاں پوچھ ہونی ہے اور ہر شخص کی اصلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں انصاف کو اپنائے ۔ وہ خواہ حاکم کی پوزیشن میں ہو یا محکوم کی، ہر حال میں دوسروں کو اس سے انصاف ملے ۔ اس کے بعد اگر کسی کو نظر آتا ہے کہ اس کا بھائی ، خواہ وہ فرد ہو یا جماعت ، بے انصافی کی روش پر چل رہا ہے ، تو ان کے لئے اس کے اندر نصیحت (خیر خواہی) کا جذبہ ابھر نا چاہئے نہ کہ ایجی ٹیشن اور محاذ آرائی کا۔ اس کو چاہئے کہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعائے رحمت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو بھلائی کی تلقین کرے ۔ ان کی اصلاح کے لئے وہی مشفقانہ طریقہ اختیار کرے جو وہ اپنی عزیز اولاد کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ اس کے بجائے احتجاجی سیاست چلانا اور انصاف کا جھنڈا لے کر کھڑا ہو جانا کسی طرح صحیح نہیں ۔ اس قسم کا ہر اقدام صرف بگاڑ میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ کسی بھی درجہ میں حالات کو سدھارنے والا نہیں بن سکتا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues