اصحاب رسول : وہ کیسے لوگ تھے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۸
کے اوپر غالب آجائیں گے۔
سووہ روم کی ان آیتوں نے مکہ کے مخالفوں کو اسلام کا مذاق اڑانے کا نیا موضوع دے دیا۔ ابی بن خلف نے ابو بکر صدیق سے کہا: ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو مجھ سے شرط کرلو۔ چنانچہ دونوں کے درمیان شرط ہوئی کہ رومی اگر دوبارہ غالب آگئے تو ابی بن خلف ایک سو اونٹ دے گا۔ اور اگر اس کے خلاف ہوا تو ابو بکر صدیق ایک سو اونٹ ادا کریں گے۔
اس کے بعد قریش کے ساتھ مسلمانوں کی کشمکش اور زیادہ بڑھی یہاں تک کہ ہجرت ہوئی اور سم ۶۲ میں جنگ بدر پیش آئی ۔ اس جنگ میں قریش کے اکثر سردار مارے گئے جس نے اسلام کے خلاف ان کے غصے کو جنون کی حد تک پہنچا دیا۔ عین اس وقت (م ۶۲۴ میں) قیصر روم نے ایرانیوں کو نینوا (عراق) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ ۔۔ قرآن کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ ابو بکر صدیق اس وقت مدینہ میں تھے۔ آپ نے ابی بن خلف کے پاس مکہ میں یہ پیغام بھیجا کہ قرآن کی بات صحیح ثابت ہوئی۔ اس لئے تم شرط کے مطابق ایک سو اونٹ ادا کرو۔ یہ پیغام مکہ پہنچا تو وہاں کسی نے اس کی مخالفت نہ کی۔ نہ تاویل نہ توجیہہ کے ذریعہ اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں سے تمام تر دشمنی کے باوجود، مکہ سے ایک سو اونٹ مدینہ بھیج دیئے گئے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق سے فرمایا ان کو صدقہ کر دو۔ حق بات کو مان لینا، خیر میں داخلہ کا واحد دروازہ ہے اور یہ صفت قدیم عربوں کے اندر کمال درجے میں موجود تھی ۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہمترین حصے کو کاٹ کر (آل عمران (۱۴) اسلام میں شامل کیا گیا تھا، جن کو آج ہم اصحاب رسول کہتے ہیں۔ یہ لوگ جب اسلام میں آئے تو ان کی صلاحیتوں میں اور زیادہ جلا پیدا ہوا۔ وہ ایسے عظیم اوصاف کے مالک بن گئے جیسے اوصاف والے لوگ شروع سے پہلے زمین پر آباد ہوئے نہ اس کے بعد دوبارہ دیکھے گئے۔ جاہلیت کے بہتر لوگ اسلام کے بہتر لوگ بن گئے ۔ (خیار هم فی الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا متفق عليه) اسلام کا مقصد، آدمی کو مادیات کی سطح سے اٹھا کر روحانیات کی سطح پر پہنچانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ زندگی کی اس سطح پر پہنچ جائے جہاں اس کی اپنی فکری سطح اور عالم حقیقت کی سطح دونوں ایک ہو جائیں۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے تو ایک طرف رہ فیضان الہی کا محیط بن جاتا ہے ۔ دوسری طرف ظواہر کا پردہ اس کے لئے اس طرح کالعدم ہوجاتا ہے کہ وہ حقائق کو بے نقاب حالت میں دیکھنے لگتا ہے۔
زندگی کی اس سطح پر پہنچنے کی واحد شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے خول سے باہر آ جائے ۔ رہ اپنے آپ سے الگ ہو کر اپنے آپ کو دیکھنے لگے۔ جب آدمی اپنے خول سے باہر نکل آتا ہے تو وہ فیضان الہی کی براہ راست زد میں آجاتا ہے۔ حقائق خواہ اس دنیا کے ہوں یا اس دنیا کے، اس کے لئے اس طرح جانی پہچانی چیز بن جاتے ہیں جس طرح کسی ماں کے لئے اس کی اولاد ۔ مگر یہ مقام صرف بلند فطرت لوگوں کو ملتا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لئے اپنے آپ کو جس طرح کچلنا پڑتا ہے، اس کی بہت صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو تمام مصالح ومفادات سے اوپر اٹھ کر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues