تہذیب سیرة ابن هشام ، جزء ثانی، صفحه ۵۵۱
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴
آخری نصیحت کی تھی، وہ یہ تھی کہ تم اور عمرو بن العاص دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا، اس لئے میں کسی حال میں جھگڑا نہیں کروں گا :
وانك والله ان عصيتني لا طعتك خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمہاری اطاعت کروں گا۔
اس قسم کی ناخوش گوار باتیں جب کسی کی زندگی میں پیش آتی ہیں تو فوراً اس کی انا بھڑک اٹھتی ہے۔ ایسے نازک مواقع پر اپنے کو عجز اور عبدیت کے دائرہ میں محدود رکھنا، جیل جانے اور پھانسی پر چڑھنے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ اس امتحان میں وہی لوگ پورے اتر سکتے ہیں جو اپنی ذات کی نفی کر کے خدا کی بندگی میں داخل ہوئے ہوں۔ فراست مومن ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله مومن کی ہوشیاری سے بچو کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اگر ایک طرف عالم آخرت کی حقیقتوں کو آدمی کے اوپر منکشف کرتا ہے تو دوسری طرف وہ موجودہ دنیا کے حقائق بھی اس پر کھولتا ہے، حتی کہ اس کی نظر اتنی بے پناہ ہو جاتی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں نہایت عاقلانہ فیصلے کرے اور ایسے اقدامات تجویز کرے جس کو فیصلہ کن انجام تک پہنچنے سے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ یہاں میں بطور مثال صرف دو حوالوں کا ذکر کروں گا۔ عمر فاروق نے ایک بار فرمایا:
ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے۔
ولكنه الذى يعرف خير الشرين عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کیا ہے ۔
خلیفہ دوم کے اس قول میں زندگی کے معاملات کا نہایت گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے خیر و شر میں انتخاب (CHOICE) کا موقع ہو۔ جب کہ یہ امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ دو نا پسندیدہ صورت حال میں سے اس صورت حال کو قبول کر لیا جائے جو "خیر" کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کا موقع دیتی ہو۔ جو چیز آج حاصل نہیں ہو رہی ہے، وہ کل مزید تیاریوں کے بعد حاصل ہو جائے ________ خلیفہ دوم نے اپنے اس مختصر جملہ میں دنیا کی آدھی سیاست بتادی ہے۔ اس گہرے سیاسی راز تک وہ اس لئے پہنچ سکے کہ وہ عمل کی نفسیات سے الگ رہ کر معاملات پر غور کر سکتے تھے۔
موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی مثال سے اس قول کی حکمت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان ملکوں کے اسلامی رہنماؤں کا مقصد غیر اسلامی طرز کے حکمرانوں کو ہٹا کر اسلامی طرز کے حکمرانوں کو بر سرِ اقتدار لانا تھا۔ انھوں نے یہ فرض کر لیا کہ وہ اس حالت میں ہیں کہ خیر (اسلامی نظام) اور شر (سیکولر نظام) میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں، انھوں نے "شر،، کو ختم کرنے کی جدوجہد شروع کردی تا کہ اس کے بعد "خیر" کو اوپر آنے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues