Al-Risala · March 1978 · page 15

قابل پیشین گوئی کردار

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

کا موقع مل جائے، اکثر ملکوں میں، دوسری سیاسی طاقتوں کے ساتھ متحدہ محاذ میں شریک ہو کر، وہ مفروضہ شر کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ (انڈونیشیا میں ولندیزی، مصر میں شاہ فاروق، ہندوستان میں انگریز، پاکستان میں ایوب اور بھٹو، وغیرہ) مگر اس کامیابی کے بعد جو انجام سامنے آیا، وہ صرف یہ تھا کہ فاروق کی جگہ ناصر، ایوب کی جگہ بھٹو، ولندیزی کی جگہ سویکارنو اور مستعمرین کی جگہ اکثریت کی جگہ اقتدار پر قابض ہو گئی۔ گویا وہ ایک شر اور دوسرے شر میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی پوزیشن میں تھے نہ کہ حقیقۃً خیر اور شر میں سے کسی ایک کو۔ ان تحریکوں نے جو طاقت ایک شر کو ہٹا کر دوسرے شر کو لانے میں خرچ کی ، اسی طاقت کو اگر وہ اسلام کے اشاعت و استحکام میں لگاتے تو وہ زیادہ بہتر طور پر ”خیر“ کی منزل کی طرف سفر کر سکتے تھے۔

علی بن ابی طالب کے زمانہ میں تحکیم کا جو واقعہ پیش آیا، اس کے بعد آپ کی فوج سے تقریباً ۱۰ ہزار آدمی الگ ہو گئے جو عام طور پر خوارج کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ لوگ خلیفہ چہارم کے خلاف سخت غم و غصہ میں مبتلا تھے اور آپ سے جنگ کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ قبل اس کے کہ خوارج ہمارے اوپر حملہ آور ہوں، ہم خود بڑھ کر ان کے اوپر حملہ کریں اور ان کا خاتمہ کر دیں۔ علی بن ابی طالب نے فرمایا: لا اقاتلہم حتی یقاتلونی ، و سیفعلو ن میں ان سے نہیں لڑوں گا جب تک وہ خود مجھ سے لڑنے کے لئے نہ آئیں ۔ (وہ ضرور ایسا کریں گے۔

عباس محمود العقاد ، العبقريات الاسلامیہ دارالآداب بیروت ۱۹۶۴، صفحہ ۴۶ خلیفہ چہارم کے یہ دس ہزار ساتھی آپ سے بگڑ کر اور آپ کو مطعون کر کے نہایت نازک موقع پر آپ سے الگ ہو گئے تھے۔ اگر آپ بھی انھیں کی طرح منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے تو آپ کبھی یہ جملہ نہیں کہہ سکتے تھے۔ مگر آپ ایک غیر متاثر ذہن کے تحت پورے واقعہ کا مطالعہ کر رہے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس گہرے راز کو پا لیا لہ خواند کی یہ جماعت انتہائی جذباتی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کو غصہ اور نفرت نے ہم سے جدا کیا ہے۔ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا لوگ زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے۔ ان کی بے صبری ضرور ان کو ابھارے گی کہ وہ ہمارے اوپر حملہ کریں۔ ایسی حالت میں جارحیت کا الزام ہم اپنے سر کیوں لیں۔ ہمیں ان کی طرف سے ہونے والی جارحیت کا انتظار کرنا چاہئے۔ جب وہ جارحیت کرکے ہمارے لئے جنگ کا جواز پیدا کر دیں، اس وقت زیادہ بہتر طور پر ہمارے لئے یہ موقع ہو گا کہ ان کے اوپر بھر پور حملہ کرکے ان کا استیصال کر دیں۔

قابل پیشین گوئی کردار

قرآن کی سورہ نمبر67 میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی کائنات میں کوئی ”تفاوت“ نہیں۔ تفاوت کے معنی ہیں فرق، عدم مطابقت ۔ تفاوت استمیان : دو چیزوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے، اس میں مطلوب اور عمل کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ خدا کا جو تخلیقی منصوبہ ہے، اسی کے مطابق عملاً

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page