مذہبی تعلیم کی سائنسی تصدیق
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷
خدا کی اس زمین پر کیا کیا پیش آیا ہے حضرت شعیب حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے۔
نسب نامہ یہ ہے :
شعیب بن میکیل بن يشجر بن مدین بن ابراهیم حضرت شعیب مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ، یہ شہر بحر احمر کے کنارے واقع تھا۔
حضرت شعیب کو فصاحت میں کمال حاصل تھا اسی خصوصیت کی وجہ سے آپ کو ”خطیب الانبیار“ کہا جاتا ہے۔ آپ نے بہترین اسلوب اور اعلیٰ ترین استدلال کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے حق کا پیغام دیا۔ اس کے جواب میں ان کی مدعو قوم نے جو کچھ کیا، اس کا ایک حصہ قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے :
” انہوں نے کہا، اے شعیب ! تمھاری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آئیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہو۔ اگر تمھارے قبیلے کا معاملہ نہ ہوتا تو ہم تم کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے۔ ہماری نظر میں تمھاری کوئی وقعت نہیں۔ پیغمبر نے کہا، اے قوم، کیا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک زیادہ طاقت ور ہے خدا سے ، اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا، یقیناً میرے رب کے قابو میں ہے جو تم کرتے ہو۔ (هود)
ایک شخص نے اپنی جماعت میں کوئی دنیوی بنیاد کھڑی کر لی ہو تو لوگ اس کے خلاف ہاتھ اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ حالاں کہ جس کے گرد و پیش بظاہر دنیوی بنیادیں نہ ہوں ، اس کے خلاف کارروائی کرنے سے اور بھی زیادہ ڈرنا چاہئیے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں خدا اس کی مدد کے لئے کھڑا ہوا ہو۔ اور جس کی مدد پر خود خدا کھڑا ہو اس کو کون تکلیف پہنچا سکتا ہے اور اگر تکلیف پہنچا دے تو اس کی سزا کتنی سخت بھگتنی پڑے گی۔
قدیم زمانہ میں جب کہ دنیا میں قبائلی نظام تھا، ہر آدمی اپنے قبیلہ کی پناہ میں ہوتا تھا، قبیلہ کے کسی فرد کو کوئی قتل کر دے تو پورے قبیلہ کی ذمہ داری ہو جاتی تھی کہ اس سے بدلہ لے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں اسلام کے دشمنوں نے غلاموں کو سخت ترین عذاب دیا حتیٰ کہ بعض کو مار ڈالا۔ مگر جو لوگ کسی قبیلہ سے وابستہ تھے۔ ان پر اس قسم کا ظلم کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عمر بن خطاب جب اسلام نہیں لائے تھے، ایک روز تلوار لے کر غصہ میں چلے جا رہے تھے، راستہ میں نعیم بن عبداللہ ملے۔ انھوں نے کہا من مرید یا عمر (اے عمر کس کا قصد ہے) انھوں نے کہا محمد کا قصہ تمام کرنے جا رہا ہوں ۔ نعیم نے جواب دیا: واللہ لقد غرتك نفسك یا عمر، اتری بنی عبد مناف تاركاً تمشى على الارض وقد قتلت محمداً خدا کی قسم اے عمر ! تمھارے نفس نے تم کو دھوکہ میں ڈال دیا ہے۔ اگر تم نے محمد کو قتل کر دیا تو کیا بنو عبد مناف تم کو زمین پر چلتا ہوا چھوڑ دیں گے ۔ یہ سن کر وہ رک گئے ۔ حضرت شعیب کی قوم نے آنجناب سے یہی بات کہی تھی ناگر ہم کو یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمھارا قبیلہ انتقام لینے کے لئے کھڑا ہو جائے گا تو ہم تمھارا خاتمہ کر دیتے ۔ حضرت شعیب نے جواب دیا کہ تم کو قبیلہ کا خوف ہے اور خدا کا خوف نہیں اگر تم نے مجھے ناحق قتل کرنے کی کوشش کی تو خدا میری پشت پر کھڑا ہو جائے گا اور وہ تم سے اتنا بڑا انتقام لے گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues