Al-Risala · March 1978 · page 28

انشاپردازی اس کو نہ بچاسکی

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

انشاپردازی اس کو نہ بچاسکی

عبدالحمید بن یحی دم ۱۳۲ھ) شام میں غیر روانی نسل میں پیدا ہوا۔ مگر اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے عربی انشاپردازی کا امام بن گیا۔ وہ بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان کا سکریٹری تھا۔ جب عباسیوں نے مروان کو مصر میں قتل کر دیا تو وہ بھاگ کر بحرین چلا گیا اور اپنے دوست ابن المقفع کے پاس مقیم رہا۔ عباسی سپاہی اسے ڈھونڈتے ہوئے ایک روز اچانک وہاں پہنچ گئے انھوں نے پوچھا تم میں سے کون عبدالحمید ہے‘‘ ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو بچانے کے لئے کہا کہ میں عبدالحمید ہوں سپاہیوں نے ابن مقفع کو پکڑ لیا اور چاہا کہ اسے قتل کر دیں۔ عین اس وقت عبدالحمید نے چلا کر کہا، ٹھہرو ہم میں سے ہر ایک کی کچھ علامتیں ہیں۔ اس لئے تم میں سے کچھ یہاں ہماری نگرانی کے لئے رہیں اور کچھ اپنے افسروں کے پاس جا کر مطلوبہ شخص کی علامت دریا کر میں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد عبدالحمید کو شناخت کرکے پکڑ لیا اور اس کو قتل کر ڈالا۔

عبد الحمید کا طرز بیان اتنا عمدہ تھا کہ پڑھنے والے پر جادو کا اثر کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بنوامیہ اور عباسیہ کے ٹکراؤ کے زمانہ میں اس نے عباسی تحریک کے لیڈر ابومسلم خراسانی کے نام ایک خط لکھا یہ خط مروان کی طرف سے تھا۔ جب یہ خط پہنچا تو ابومسلم نے اس خط کو اس ڈر سے نہیں پڑھا کہ اس کو پڑھ کر کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بنوامیہ کے بارے میں نرم پڑ جائے اور مروان کا حامی بن جائے ۔ اس نے اس خط کو بغیر پڑھے جلا دیا ۔ پھر ایک پرزہ پر اس کے جواب میں مروان کو یہ شعر لکھ بھیجا محا السیف اسطار البلاغة واستحی عليك ليوث الغاب من كل جانب بلاغت کی سطروں کو تلوار مٹا دے گی اور جنگل کے شیر ہر سمت سے تمہارے اوپر حملہ کریں گے۔ بہت سے یقین ناکافی معلومات کا نتیجہ ہوتے ہیں میدہ اور کالک کے ملنے سے جو چیز بنتی ہے، وہ ہماری آنکھ کے لئے بھورے خاکستری رنگ کا سفوف ہوتا ہے۔ مگر اس سفوف کا باریک کیڑا، جو خود بھی سفوف کے ذروں کے برابر ہوتا ہے اور صرف خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے، اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید ” اینٹوں“ کا ڈھیر سمجھتا ہے۔ اس کے مشاہدہ کے پیمانہ میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔

یہ ایک سادہ سی مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انسانی رائیں کتنی غلط ہو سکتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ رائے قائم کرنے کے بارے میں ہم کو انتہائی محتاط ہونا چاہئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذہن میں ایک نظریہ بنا لیتا ہے اور اس کو درست سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ وہ محض اس کی ناکافی معلومات کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ اس کے ائنے محدو و زمن کے مام اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page