فکری ڈھانچہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹
فکری ڈھانچہ
ہر دور کا ایک فکری ڈھانچہ ہوتا ہے۔ آدمی اسی فکری ڈھانچے میں سوچتا ہے اور اسی کے مطابق چیزوں کو اپنے لئے قابل فہم بناتا ہے۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس (۱۹۵۶) میں خروشیچف، نے اشتراکی دنیا کے "جہنی حالات" کا انکشاف کیا تھا۔ اس کے بعد سابق امریکی کمیونسٹ ہورڈ فاسٹ ( ) نے کمیونزم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ”میں خود اپنے فکری ڈھانچے میں کمیونسٹ بنا۔ “ مارکس کی نظریاتی تشریح نے اس کو کمیونسٹ نہیں بنایا تھا۔ وہ ایک انسانیت دوست آدمی تھا اور اس ذہن کے تحت کمیونسٹ بن گیا تھا کہ یہ ظلم اور لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مگر جب اس کو معلوم ہوا کہ "مزدور ڈکٹیٹر شپ میں پہلے سے بھی زیادہ" شدید شکل میں سماجی ظلم جاری ہے، تو اس نے کمیونزم کو چھوڑ دیا۔ ۔ ہورڈ فاسٹ اپنے فکری ڈھانچے ہی میں کمیونزم کو لے سکتا تھا۔ جب کمیونزم اس کو اپنے فکری ڈھانچے میں نہیں ملا تو وہ اس کے لئے قابل قبول نہ رہا۔ قدیم زمانہ میں عام طور پر دو قسم کے فکری ڈھانچے دنیا میں رائج تھے۔ ایک مشرکانہ، دوسرا فلسفیانہ۔ مشرک کا نہ فکری ڈھانچہ اس مفروضہ پر عمل کرتا تھا کہ دنیا کی ہر نمایاں چیز اپنے اندر خدا کا ایک "انس" لئے ہوئے ہے، وہ خدائی ہستی کی ایک توسیع ہے۔ اسی طرح فلسفیانہ فکر ذہنی قیاسات پر قائم تھا۔ یونان میں اس فلسفہ نے ترقی پا کر قیاسی منطق (SYLLOGISM) پیدا کی۔ پچھلے زمانہ میں پیغمبروں کے لائے ہوئے دین میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، وہ انھیں فکری ڈھانچوں کے رواج عام کی وجہ سے تھیں۔ اس کی ایک مثال موجودہ مسیحیت ہے۔ حضرت مسیح وہی سادہ اور فطری دین لے کر آئے جو قرآن میں ہم کو نظر آتا ہے۔ مگر آنجناب کے بعد آپ کے پیرووں نے زمانی فکری ڈھانچے سے متاثر ہو کر مسیحیت کو شرک اور فلسفہ کا ایک آمیزہ بنا دیا۔ "ابن اللہ"، کا تصور مشرکانہ فکر سے متاثر ہونے کی وجہ سے مسیحیت میں شامل ہوا۔ اسی طرح کفارہ کے عقیدہ کے لئے قدیم فلسفیانہ فکر نے زمین فراہم کی۔
ساتویں صدی میں اسلام کے عظیم انقلاب کے باوجود مشرکانہ اور فلسفیانہ فکری ڈھانچہ دنیا سے ختم نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ سے اسلام، مختصر ابتدائی وقفہ کے بعد، بار بار مضاہات (تو بہ ۳۰) کا شکار ہوتا رہا۔ قرآن کی صورت میں اسلام کا الہی متن اگر چہ مکمل طور پر محفوظ تھا، مگر مسلمان قومیں عمل اسلام کو مروجہ افکار کے نقشہ میں ڈھالتی رہیں۔ زندہ اور مردہ بزرگوں کا مرکز عقیدت بننا جو مختلف صورتوں میں اسلام میں رائج ہوا، وہ مشرکانہ فکر سے متاثر ہونے کی مثال ہے۔ اسی طرح علم فقہ اور علم کلام، قیاسی منطق سے متاثر ہونے کی مثال۔ موجودہ زمانہ میں اسلام اس قسم کی تیسری اثر پذیری سے دوچار ہوا ہے۔ یہ "نظامی طرز فکر" ہے۔ انیسویں صدی میں، صنعتی انقلاب کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں، سیاسی اور معاشی اصطلاحوں میں سوچنے کا رواج ہوا تو مسلمانوں نے اسلام کو بھی سیاسی نظام اور معاشی نظام کی صورت میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام جو حقیقتہ "تعمیر آخرت کا موضوع تھا، تعمیر دنیا کا موضوع بن کر رہ گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues